اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 290 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 290

۲۹۰ حسنِ خاتمہ خدمات جلیلہ کے بعد آپ کی وفات ان خدمات کے شرف قبول پانے اور آپ کے حسنِ خاتمہ پر دلیل ہے۔۱۹۱۰ء سے آپ جماعت احمدیہ کے ممتاز ترین افراد میں شمار ہوتے تھے ہیں۔آپ ان احباب میں سے تھے جو بعد پنشن خدمت سلسلہ میں مرکز میں مصروف ہوئے۔اور انہوں نے عمر بھر کی محنت توجہ اور جانفشانی سے کام کرنے کی توفیق پائی۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے مشاورت منعقدہ اپریل ۱۹۳۶ء میں افتتاحی تقریر میں فرمایا : جو دوست پیشنز ہیں وہ قادیان میں آکر سلسلہ کا کام کرنے کی کوشش کریں کیونکہ اس وقت کام بہت زیادہ ہے اور کام کرنے والے کم ہیں۔پانچ سات ایسے دوست اب بھی کام کر رہے ہیں۔جن کا بیان ہے کہ تھوڑے سے عرصہ میں انہیں اتنا کام کرنا پڑا جتنا انہوں نے ساری عمر نہ کیا تھا۔خاں صاحب فرزند علی صاحب اور خاں صاحب برکت علی صاحب کی شہادت ہے کہ انہیں یہاں سرکاری ملازمت کی نسبت بہت زیادہ کام کرنے کی توفیق حاصل ہورہی ہے۔(رپورٹ ص ۱۳۳) ابھی آپ کو مرکز میں آئے صرف چار سال ہی ہوئے تھے اور اس کے بعد بارہ تیرہ سال مزید خدمات کا آپ کو موقعہ ملا۔جب آپ بعد پنشن قادیان آنے والے تھے تو حضور نے جذبات مسرت محسوس کرنے کا اظہار فرمایا تھا۔مناصب جلیلہ پر خاں صاحب کا حضور کی طرف سے فائز رہنا اس امر پر شاہد ناطق ہے کہ حضور آپ کی خدمات سے مسرور و مطمئن تھے۔مارچ ۱۹۱۰ء میں منعقد ہونے والے جلسہ سالانہ پر آنے والے چھپن ممتاز ترین احباب میں ''بابو برکت علی صاحب و برادران شملہ یعنی بابو صاحب شمار کئے گئے تھے۔(بدر ۳۱ مارچ ۱۹۱۰ ء۔ص۱)