اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 291 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 291

۲۹۱ صحابہ کا پاک گروه حضرت مسیح موعود علیہ السلام تذکرۃ الشہادتین میں رقم فرماتے ہیں: خدا اس جماعت کو ایک ایسی قوم بنانا چاہتا ہے جس کے نمونہ سے لوگوں کو خدا یاد آوے اور جو تقویٰ اور طہارت کے اول درجہ پر قائم ہوں اور جنہوں نے در حقیقت دین کو دنیا پر مقدم رکھ لیا ہو۔“ (ص۷۶) نیز فرمایا: اس (بیعت) کی برکات اور تاثیرات اسی شرط سے وابستہ ہیں جیسے ایک تخم زمین میں بویا جاتا ہے۔تو اس کی ابتدائی حالت یہی ہوتی ہے کہ گویا وہ کسان کے ہاتھ سے بویا گیا اور اس کا پتہ نہیں کہ اب وہ کیا ہوگا۔لیکن اگر وہ عمدہ ہوتا ہے۔تو خدا کے فضل سے اور اس کسان کی سعی سے وہ اوپر آتا ہے اور ایک دانہ کا ہزار دانہ بنتا ہے۔اسی طرح سے انسان بیعت کنندہ کو اول انکساری اور عجز اختیار کرنی پڑتی ہے اور اپنی خودی اور نفسیا نیت سے الگ ہونا پڑتا ہے۔تب وہ نشو و نما کے قابل ہوتا ہے۔۳۵ حضور اشتہار ۴ مارچ ۱۸۸۹ء میں تحریر فرماتے ہیں: خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ محض اپنے فضل اور کرامت خاص سے اس عاجز کی دعاؤں اور اس ناچیز کی توجہ کو ان کی پاک استعدادوں کے ظهور و بروز کا وسیلہ ٹھہرا دے اور اس قدوس جلیل الذات نے مجھے جوش بخشا ہے۔تا میں اُن طالبوں کی تربیت باطنی میں مصروف ہو جاؤں اور ان کی آلودگیوں کے ازالہ کے لئے دن رات کوشش کرتا رہوں۔اور ان کے لئے وہ نور مانگوں جس سے انسان نفس اور شیطان کی غلامی سے آزاد ہو جاتا ہے۔اور بالطبع خدا تعالیٰ کے راہوں سے محبت کرنے لگتا ہے۔اور ان کے لئے وہ روح قدس طلب کروں۔جو ربوبیت تامہ اور عبودیت