اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 287 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 287

۲۸۷ برکت علی صاحب شملوی رضی اللہ عنہ مورخہ ۷ اگست ۱۹۵۸ء گیارہ بجے صبح راولپنڈی میں وفات پاگئے۔انا لله وانا اليه راجعون۔وفات کے وقت آپ کی عمر ۸۶ سال تھی۔آپ ۱۹۰۱ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں شامل ہوئے تھے۔آپ محترم خاں صاحب مولوی فرزند علی صاحب کے حقیقی ماموں تھے۔آپ ایک زمانے میں عرصہ دراز تک جماعت احمد یہ شملہ کے امیر رہے اور اپنے زمانہ امارت میں بہت اہم خدمات سرانجام دیں۔سرکاری ملا زمت سے ریٹائر ہونے کے بعد آپ ایک لمبا عرصہ مرکز سلسلہ میں آنریری جوائنٹ ناظر بیت المال کے طور پر خدمت سرانجام دیتے رہے۔آپ علم دوست۔مخیر اور سلسلہ احمدیہ کے لئے بڑھ چڑھ کر قربانی کرنے والے بزرگ تھے۔اپنی اہلیہ صاحبہ محترمہ کی وفات پر ان کی یاد میں آپ نے اشاعت اسلام کی غرض سے ہزاروں روپے کا ایک ٹرسٹ قائم کیا نیز ربوہ میں ایک پختہ مکان تعمیر کرا کر اسے صدرانجمن احمدیہ کے نام ہبہ کر دیا۔اسی طرح آپ اپنے طور پر غرباء کی مالی امداد میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہتے اور اکثر وظائف اور امدادی رقوم عطا فرماتے۔سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد پہلے قادیان میں اور قیام پاکستان کے بعد ربوہ میں سکونت اختیار کی۔اس سال موسم گرما میں عارضی طور پر راولپنڈی تشریف لے گئے اور وہیں وفات پائی۔۳۳۴ آپ کی وفات کی خبر سن کر حضرت مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہ نے حسب ذیل نوٹ الفضل میں شائع کروایا۔آپ تحریر فرماتے ہیں: ”ابھی ابھی فون پر محمود احمد خاں صاحب نائب امیر جماعت احمدیہ راولپنڈی نے اطلاع دی ہے کہ آج صبح گیارہ بجے پنڈی میں خاں صاحب برکت علی خان صاحب شملوی کا انتقال ہوگیا ہے۔اور ان کا جنازہ آج ۸۵۸ ۷ شام کو بذریعہ ٹرک پنڈی سے روانہ ہو کر انشاء اللہ