اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 288 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 288

۲۸۸ تعالیٰ کل صبح ربوہ پہنچے گا۔انا للہ وانا اليه راجعون۔خان صاحب موصوف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے اور بہت نیک اور مخلص اور سادہ مزاج بزرگ تھے ان کی بیعت ۱۹۰۰ ء یا ۱۹۰۱ء کی ہے ان کو دو زمانوں میں سلسلہ کی خاص خدمت کا موقعہ میسر آیا۔اولاً۔جماعت احمد یہ شملہ کے صدر اور امیر کی حیثیت میں۔جب کہ انہوں نے شملہ کی جماعت کو غیر معمولی حسن تدبر کے ساتھ سنبھالا اور ۱۹۱۴ء کے فتنہ خلافت کے ایام میں خصوصیت کے ساتھ قابل قدر خدمات سرانجام دیں۔اور جماعت کے کثیر حصہ کو لغزش سے بچا لیا شملہ کی جماعت میں ان کی صدارت اور امارت کا زمانہ اپنے نتائج کے لحاظ سے بڑا امتیاز رکھتا ہے۔اس کے بعد جب وہ پنشن پاکر قادیان تشریف لائے تو مرکز میں لمبے عرصہ تک جوائنٹ ناظر بیت المال کے عہدہ پر بہت مخلصانہ خدمات سرانجام دیں۔شملہ میں تنظیم اور باقاعدگی اور حسن تدبیر کی خوبیاں ان کے کام کی طرہ امتیاز تھیں۔خانصاحب مرحوم خانصاحب مولوی فرزند علی صاحب کے حقیقی ماموں تھے۔خاں صاحب برکت علی صاحب نے ۸۶ سال کی عمر میں وفات پائی ہے مگر ہمت اور جذبہ خدمت کا یہ عالم تھا کہ غالباً دو سال ہوئے انہوں نے قرآنی علوم کے فہم کے متعلق ایک رسالہ تصنیف کر کے شائع کیا تھا جس کے بعض مضامین واقعی عمدہ اور اچھوتے تھے۔اسی طرح ان کی اکثر روایات بھی غالباً چھپ چکی ہیں۔خاں صاحب مرحوم نے اپنے پیچھے کوئی اولا د نہیں چھوڑی ان کی اہلیہ جو وہ بھی خاوند کی طرح بہت نیک اور مخلص تھیں۔ان کی زندگی میں ہی چند سال ہوئے فوت ہو گئی تھیں۔اور ربوہ کے مقبرہ بہشتی میں مدفون ہیں۔مرحومہ کو حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے ساتھ بہت عقیدت تھی۔اللہ تعالیٰ دونوں کو غریق رحمت کرے اور اپنے خاص افضال سے نوازے