اصحاب احمد (جلد 3) — Page 261
۲۶۱ اور آپکی بیگم صاحبہ کو اور آپ کے دیگر متعلقین کو اپنے فضل اور رحمت کے سایہ میں رکھے۔اور عمر طویل عطا فرمائے اور دینی خدمات سرانجام دینے کی توفیق بخشے۔”جناب مکرم ! یہ ایک نہایت حقیر تحفہ یعنی ایک نقرئی گھڑی جو کہ دیکھنے میں واقعی حقیر ہے مگر اس کے آئینہ میں آپ کو جماعت کی محبت کا عکس ہمیشہ دکھائی دیتا رہے گا۔بطور یادگار جماعت کی طرف سے پیش خدمت ہے۔امید ہے آپ اس کو قبول فرمائیں گے۔گر قبول افتد زہے عزو شرف جواب منجانب خاں صاحب برادرانِ کرام! میں آپ کی اس عزت افزائی کا ازحد ممنون ہوں اور آپ کی مہربانی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔آپ نے صرف ایڈریس ہی نہیں دیا۔بلکہ ساتھ ایک تحفہ بھی عنایت کیا ہے۔اس لئے یہ موقعہ میرے لئے دوہرے فخر کا موجب ہے۔ایڈریس کے کاغذ نظر سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔اور ایک عرصہ کے بعد اُن کی یاد مدھم پڑ جاتی ہے۔مگر یہ تحفہ جو آپ نے عنایت کیا ہے ایسا تحفہ ہے۔جو ہر وقت میرے سینے کے ساتھ رہے گا۔اس کی دید مجھے ہمیشہ آپ کی مہربانیوں کو یاد دلاتی رہے گی۔اور اس برادرانہ اور محبت کے تعلق کو فراموش نہیں ہونے دے گی۔جو ایک عرصہ تک آپ کے ساتھ قائم رہا ہے۔اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی تحریک کرتی رہے گی۔کہ اے خدا ! جس طرح دوستوں نے مجھ سے محبت کا اظہار کیا ہے۔اور میری عزت افزائی کی تو دین و دنیا میں ان کی عزت کو بڑھا۔ان کے مال میں اور اُن کے ایمان میں ترقی دے۔ان کے بیوی بچوں کو ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنا۔اور انہیں آفات زمانہ سے محفوظ رکھ۔برادران! دنیا میں ایڈریس ہوتے ہیں اور مجھے بھی دئے جاتے