اصحاب احمد (جلد 3) — Page 262
۲۶۲ ہیں۔مگر ایک خاص بات جو آپ کے ایڈریس اور تحفہ میں ہے۔جس کی وجہ سے میرا دل ایک خاص خوشی محسوس کر رہا ہے۔وہ یہ ہے کہ اس کا محرک محض ایک دینی محبت کا تعلق ہے۔کوئی دنیاوی نمود مدنظر نہیں۔اور نہ کوئی دنیاوی فائدہ پیش نظر ہے۔بلکہ اس محبت کا اظہار ہے جو آپ کو محض دین کی وجہ سے اس عاجز کے ساتھ ہے۔یہ وہ بات ہے جس کے لئے میں جس قدر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر بجالاؤں تھوڑا ہے۔اس کا فضل ہے۔کیونکہ اس کے فضل کے بغیر دلوں میں حقیقی محبت پیدا نہیں ہو سکتی۔برادران ! آپ نے میری خدمات کا ذکر کیا ہے۔اس میں شک نہیں کہ مجھے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئے تقریباً چھبیس سال ہوگئے ہیں۔میں نے ۱۹۰۱ء کے اواخر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی۔حضرت خلیفہ اول کا زمانہ دیکھا۔اور اب خلافت ثانیہ کا دور دورہ ہے، جہاں تک مجھے یاد ہے۔سلسلہ میں داخل ہوتے ہی مجھے سیکرٹری مقرر کر دیا گیا۔اور ایک باقاعدہ انجمن قائم ہوگئی۔اس سے پہلے کوئی باقاعدہ انجمن نہیں تھی۔اب نئے انتظام کے ماتحت قریباً پانچ سال سے دوستوں کی سفارش پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ نے امیر جماعت مقرر کر دیا ہے۔اور ساتھ کئی سیکرٹری ہیں۔غرض میں پہلے سیکرٹری تھا۔اور اس وقت سیکرٹری ہی ہر قسم کے کام کا ذمہ دار سمجھا جاتا تھا۔اور اب امیر جماعت ہوں۔مگر میں کیا اور میری خدمات کیا۔اور نہ میں اپنے آپ میں کوئی خاص لیاقت پاتا ہوں۔بلکہ جب میں اپنے اندرونہ کی طرف دیکھتا ہوں تو ہزارہا عیبوں سے پر پاتا ہوں۔میں نہیں جانتا کہ دوستوں نے مجھ میں کونسی صفت کا مشاہدہ کیا۔جو مجھے سیکرٹری شپ یا امارت کے قابل سمجھا۔یا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ نے کون سی قابلیت دیکھی کہ مجھے امیر مقرر کر دیا۔اللہ تعالیٰ کی بے نیازی