اصحاب احمد (جلد 3) — Page 218
۲۱۸ گردنیں جھکائی ہیں۔اور غافلو! ذرا آپ کے خطبات کو دیکھو۔تقریروں کا مقابلہ کرو۔درس قرآن کو سنو اور تحریر میں پڑھو۔پھر ایمان سے بتاؤ کہ تم میں سے کوئی ہے جو ایسے نکات معرفت بیان کر سکے خدا کے فضل سے آپ کے کلام میں وہ بلند خیالی اور باریک بینی ہے کہ کسی اور میں نہیں پائی جاتی وہ وہ نکات معرفت نکالے ہیں کہ بڑے بڑے عالم فاضل ششدر رہ جاتے ہیں محو ہو جاتے ہیں حیرت میں ڈوب جاتے ہیں۔اور پھر اپنے الہامات اور مکاشفات اور رویا بھی شائع کئے ہیں۔جو لفظاً اور معنا پورے ہوئے جو سچ کہتا ہوں ایمان سے کہتا ہوں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے تو علم قرآن علم آں طیب زباں علم غیب از وحی از وحی خلاق جہاں این سه علم چون نشانها داده اند ہر بیچو شاہداں استاده اند کے مصداق نظر آتے ہیں۔یعنی پورے طور پر اپنے والد علیہ السلام کے روحانی وارث ہیں۔اللهم صلی علی محمد و على آله واصحابه وخلفائه اجمعين غرض حضرت میاں صاحب کو خدا کے فضل سے کئی فضیلتیں حاصل ہیں۔(۱) حضرت مسیح موعود کے لڑکے ہیں (۲) عالی نسب ہیں (۳) صحابہ میں سے ہیں (۴) متقی پرہیز گار ہیں (۵) عالم ہیں (۶) حضرت خلیفہ اوّل نے بارہا ان کو امامت کے لئے منتخب کیا (۷) بعض اوقات قرآن شریف پڑھانے کے لئے مقرر کیا (۸) شب و روز حضرت مسیح موعود کی تعلیم وتربیت کے نیچے رہے (۹) حضرت خلیفہ اول نے خاص طور پر ان کی تعلیم میں کوشش کی (۱۰) حضرت خلیفہ اول کے بڑے فرمانبردار تھے (۱۱) حضرت خلیفہ اول اپنے لڑکوں کی نسبت ان سے زیادہ پیار و محبت اور تعظیم کرتے تھے (۱۲) حاجی