اصحاب احمد (جلد 3) — Page 219
۲۱۹ ہیں (۱۳) حضرت خلیفہ اول ان کو حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی کا مصداق یعنی مصلح موعود سمجھتے تھے۔(۱۴) جماعت نے ان کو خلیفہ تسلیم کیا۔یہ فضیلتیں مجموعی طور پر اور کسی میں نہیں ہیں۔ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يُشَاءُ اس میں شک نہیں کہ محض کسی مامور کی اولاد ہونا بے حقیقت ہے۔اور نہ ہی اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمُ کے ماتحت عالی نسب ہونا کوئی فخر ہے۔مگر مذکورہ صفات کے علاوہ اگر یہ صفات بھی ہوں تو نور علی نور ہے اور ایسے شخص کو زیادہ مستحق امارت قرار دیتی ہیں۔”جہاں تک مجھے معلوم ہے۔تمہارے امیر کو حضرت مسیح موعود اور خلیفہ اول کے وقت کبھی یہ فخر حاصل نہیں ہوا کہ انہوں نے جمعہ کی امامت یا ان کے حکم سے کسی نماز کی امامت کرائی ہو یا درس قرآن کے لئے انہیں کہا گیا ہو۔یا کوئی فتویٰ ان کے سپرد کیا گیا ہو۔وہ سیکرٹری ضرور تھے اور انجمن کے دنیاوی کام سرانجام دیتے تھے گو وہ دین سے تعلق رکھتے تھے۔مگر میرا مدعا یہ ہے کہ یہ کام ان کے اس قسم کے نہیں تھے جن سے روحانی امامت مقصود ہو۔ایک ترجمۃ القرآن کا کام ان کو دیا گیا تھا۔وہ بھی اس لحاظ سے کہ وہ انگریزی جانتے ہیں۔تبھی تو ان پر اعتماد نہیں کیا گیا۔اور حضرت خلیفہ اول نے حکم دیا کہ ہمیں سنا دیا کرو۔اور اصلاح کرالیا کرو۔بلکہ عالموں کی ایک کمیٹی مقرر کی کہ اس کو دکھا لیا کرو۔" غرض اے منکرین خلافت ! وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَاتَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعُ غَيْرَ سَبِيلَ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مُصِيرًا کے ماتحت سبیل المومنین اختیار کرو۔مومنین کی جماعت کثرت سے جس طرف جھکی ہوئی ہے اس راستہ پر قدم مارو اگر اس کو چھوڑ کر غیروں کی جانب مائل ہوئے تو پھر انہی میں جذب ہو جاؤ گے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جو وعید ان کے حق ہیں تم پر بھی عائد ہوں گے۔