اصحاب احمد (جلد 3) — Page 217
۲۱۷ چونکہ اس نے جماعت بندی نہیں توڑی۔اس لئے وہ ثواب کا مستحق ہے اور اگر امام نے جان بوجھ کر غلطی سے انحراف نہیں کیا تو وہ خود اس کا ذمہ دار ہے نہ کہ مقتدی۔اسی طرح خلافت کا معاملہ ہے۔جب جماعت نے اپنے میں سے ایک کو منتخب کر لیا تو سب کو اس کی اتباع واجب ہے۔اگر غلطی کرے تو ادب سے بتادیں۔مگر اس سے بغاوت کبھی نہ کریں۔اس طرح قومی شیرازہ بنا رہتا ہے۔اور ا س میں بڑے بڑے فائدے ہیں۔ایک تو یہی کہ قوت متحدہ قائم رہتی ہے۔انتشار میں کمزوری لاحق ہو جاتی ہے۔ایک سوال ایمان واتقا اور علم کا رہ جاتا ہے۔خلیفہ وہ ہونا چاہیئے جوان صفات میں ممتاز ہو یوں تو محنتوں کی طرح بزدل پس پردہ حضرت میاں صاحب کے انقاء پر حملے کرتے ہیں۔جن کا تسلی بخش جواب پانے پر اکثروں کی زبانیں بند ہوگئی ہیں۔(اور یہ حملے اسی نوع کے تھے جو بعض متعصب غیر احمدی حضرت مسیح موعود پر کیا کرتے تھے ) مگر ظاہر طور پر ابھی تک کوئی بے ایمانی بدمعاشی فریب دہی وغیرہ کا الزام (استغفر اللہ ) ہماری نظر سے نہیں گزرا۔برعکس اس کے سلسلہ کے بڑے بڑے بزرگوں نے اور ایسے بزرگوں نے جو قادیان میں رہتے ہیں۔اور حضرت میاں صاحب کے چال چلن سے خوب واقف ہیں علی الاعلان کہا ہے کہ خدا کے فضل سے آپ کے ایمان اور اتقاء میں کوئی دھبہ نہیں۔اور آپ کا ایمان اور انقاء اعلیٰ پایہ کے ہیں۔" رہا علم۔سو دنیا وی علم میاں صاحب کے پاس نہیں۔وہ انگریزی کے ایم، اے ، بی اے نہیں نہ عربی کے مولوی فاضل۔البتہ جو علم دینی خلیفہ میں ہونا چاہیئے وہ لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ کے ماتحت جانچ لو۔امتحان تو انتخاب میں ہو نہیں سکتا پر اس میں کیا شک ہے کہ بڑے بڑے علماء نے آپ کے تبحر علمی کو مانا ہے۔اور ان کے علم کے آگے اپنی