اصحاب احمد (جلد 3) — Page 42
۴۲ ہجوم تھا۔سٹیشن جھنڈیوں اور گملوں سے خوب آراستہ کیا گیا تھا۔اللہ اکبر اور غلام احمد کی بے کے نعروں سے فضا بہت دیر تک گونجتی رہی۔حضور کی خدمت میں امرتسر سٹیشن پر کئی احباب نے پھلوں کی ٹوکریاں پیش کیں۔جو آپ نے تمام کی تمام راستہ میں گاڑی کے ڈبوں میں تقسیم کرا دیں۔کے ازدواجی زندگی آپ کے ماموں مکرم حکیم محمد بخش صاحب کی دختر محترمہ برکت بی بی صاحبہ سے آپ کی شادی ۱۸۹۹ء میں ہوئی۔ان کی وفات کے بعد آپ نے ۱۹۱۶ء میں محترمہ اللہ رکھی صاحبه دختر مکرم حکیم غلام نبی صاحب ساکن موضع شاہ پور ضلع گورداسپور سے شادی کی۔جن کے بطن سے کوئی اولاد نہیں۔موصوفہ ربوہ میں قیام رکھتی ہیں۔اور حضرت بابو صاحب کی وصیت کے مطابق آپ کے فرزند مکرم میاں بشیر احمد صاحب ان کے اخراجات کے متحمل ہیں۔محترمہ برکت بی بی صاحبہ کے بطن سے آپ کی ذیل کی اولاد ہوئی: (1) مکرم میاں بشیر احمد صاحب۔آپ ۱۹۴۴ء سے تا تقسیم ملک جماعت ڈیرہ دون کے صدر رہے اور ۱۹۵۵ء سے تا حال امیر جماعت جھنگ ہیں۔(۲) مکرم مولوی نذیر احمد علی صاحب۔آپ نے قریباً ایک ربع صدی مغربی افریقہ میں میدان جہاد میں گزار کر وہیں وفات پائی۔آپ وہاں رئیس التبلیغ تھے۔جید (۳) محترمہ حلیمہ بی بی صاحبہ (اہلیہ مکرم با بو غلام رسول صاحب لاہوری کلرک ریلوے ) آپ نے ۵ جولائی ۱۹۲۳ء کو وفات پائی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہیں۔ان کی شادی کا واقعہ بہت ایمان افروز ہے۔۱۹۱۸ء کے قریب کی بات ہے کہ حضرت بابو صاحب نے مسجد احمدیہ امرتسر میں سنا کہ بابو غلام رسول صاحب سے کہا گیا ہے کہ وہ احمدیت سے انکار کر دیں تو انہیں رشتہ دیا جائے گا۔لیکن انہوں نے یہ شرط قبول نہ کی۔اس لئے شادی نہ ہوسکی۔حضرت بابو صاحب کا احمدیت سے عشق اور اسکے لئے غیرت قابل داد تھا۔انہوں نے یہ بات سنتے ہی کہا میں انہیں اپنی بچی نکاح میں دیتا ہوں۔اس شادی سے ایک ہی بچی محترمہ : آپ کے سوانح کے لئے دیکھئے تا بعین اصحاب احمد جلد چہارم۔