اصحاب احمد (جلد 3) — Page 229
۲۲۹ جلسہ میں شریک ہونے کا باعث ہوگئی اور میں جلسہ کی برکات سے متمتع ہو سکا۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہوا اور جہاں مرحومہ کے مجھ پر کئی اور احسان ہیں جاتی ہوئی یہ احسان بھی کر گئیں۔غرض مرحومہ کی وفات کے متعلق ہم دونوں میاں بیوی کی سب دعائیں منظور ہو گئیں۔البتہ افسوس ہے ہماری ایک خواہش پوری نہ ہوئی یعنی مرحومہ اپنی وفات سے پہلے کوئی بات نہ کر سکیں نہ کوئی وصیت کر سکیں اور نہ اپنی کسی خواہش کا اظہار کر سکیں اور دنیا میں ایسا کون ہے جس کی سب دعائیں اور خواہشیں پوری ہوں مگر ان کے متعلق یہ عجیب بات ہے کہ ہم کوئی خاص دُعا بھی نہ کر سکے۔مجھے ان کی دل شکنی کی وجہ سے حوصلہ نہ پڑا۔کہ ان سے دریافت کروں اور اسی خیال میں رہا کہ خدا تعالی آرام دے گا۔تو دیکھا جائے گا۔ایک دفعہ انہوں نے کوشش کر کے کچھ کہنا چاہا مگر ایک یا دو باتیں کر کے یہ کہہ کر خاموش ہو گئیں کہ طبیعت گھبراتی ہے۔باقی باتیں بعد میں بتاؤں گی۔اور انشاء اللہ لکھا کر جاؤں گی مگر افسوس ہے کہ مہلت نہ ملی۔وفات سے قبل دس بارہ گھنٹے بے ہوشی طاری رہی اور بے ہوشی میں کچھ باتیں کرتی رہیں۔مرنے سے پہلے کچھ منٹ جو طبیعت سنبھلی تو صرف اتنا کہہ سکیں کہ کمزوری از حد ہوگئی ہے اتنے میں آنکھیں پتھرا گئیں۔اور نبض ساکت ہوگئی۔انا للہ وانا اليه راجعون۔سو مرحومہ کی وفات کے متعلق سوائے ایک خواہش کے ہماری سب دعا ئیں خدا تعالیٰ کے فضل سے منظور ہوئیں مرحومہ کا تعلق دنیا میں میرے ساتھ قریباً ۵۲ سال رہا دل چاہتا ہے اور اس کے لئے خدا کی درگاہ میں دست بدعا ہوں کہ آخرت میں بھی وہ ہمیں اپنے بہشت بریں میں اکٹھا رکھے امید ہے۔میری یہ دعا بھی خدا کے فضل سے منظور ہوگی۔کیونکہ بظاہر اس کی بنیاد بھی رکھ دی گئی ہے یعنی حضرت خلیفہ امسیح ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی اجازت سے مرحومہ کی قبر کے ساتھ ہی