اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 230 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 230

۲۳۰ میری قبر کے لئے بھی جگہ مخصوص کردی گئی ہے۔ناظرین سے درخواست ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ انہیں توفیق دے تو دعا کریں کہ میری یہ خواہش اور دعا بھی پوری ہو۔وو مرحومہ میری بہت خدمت گزار تھیں۔میری صحت اور کھانے پینے کا بہت خیال رکھتی تھیں۔بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اُن کا یہ سلوک میرے ساتھ عشق کی حد تک پہنچ گیا تھا۔اور خویش و اقرباء اور دوسرے ملنے والوں میں یہ بات ایک ضرب المثل ہو گئی تھی کہ وہ اپنے خاوند کا بہت ہی فکر رکھتی ہیں۔تقویٰ میں بھی اپنے ملنے والوں میں مشہور تھیں۔مجمع میں جانا محض اس وجہ سے پسند نہ کرتی تھیں کہ عورتوں اور بچوں کے شوروغل کی وجہ سے ان کی طبیعت گھبراتی تھی۔اور عورتیں جو عموماً ایک دوسرے کا گلہ شکوہ کرتی ہیں۔انہیں بُرا معلوم ہوتا۔کسی کا احسان لینا پسند نہ کرتی تھیں۔خواہ کوئی رشتہ دار ہو یا غیر رشتہ دار اور اگر کوئی کسی وجہ سے خاص حسن سلوک کرتا تو جب تک اس سے بڑھ کر بدلہ نہ دیتیں چین نہ آتا کسی کا حق مارنا تو ایک طرف ہمیشہ دوسرے شخص کو اس کے حق سے زیادہ فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتی تھیں۔غرباء کی امداد کا خاص شوق تھا اور جو روپیہ پیسہ بھی میں بطور جیب خرچ وغیرہ دیتا وہ غرباء کو دے چھوڑتی تھیں اور احسان جتلانا تو الگ دل میں بھی اس کا خیال نہ رکھتیں۔اگر کوئی ان کے سامنے ان کے احسان کا ذکر کرتا۔تو بُرا مناتیں۔کھانے پینے اور لباس میں ازحد سادگی پسند تھیں۔بالکل سادہ اور چھوٹا موٹا لباس پہنتیں۔اگر کوئی رشتہ دار یا ملنے والی عورت کہتی کہ خدا کا فضل ہے۔کسی چیز کی کمی نہیں پھر آپ کو لباس میں کفایت کی کیا ضرورت ہے۔اچھا کپڑا پہنا کریں تو جواب دیتیں کہ طبیعت ہی نہیں چاہتی۔زیورات خدا کے فضل سے بنائے ہوئے تھے بلکہ بعض اچھے پار چات بھی تھے مگر پہن کر مجمع میں بہت کم جاتیں۔اور جب کہا جاتا کہ ان کے رکھ چھوڑنے کا کیا فائدہ استعمال کرو تو جواب