اصحاب احمد (جلد 3) — Page 228
۲۲۸ جنازہ لا رہے ہیں۔مگر یہ تار ہمارے پہنچنے کے بعد دفتر والوں کو ملا۔اس کے دو فائدے ہو گئے۔اول یہ کہ اگر تا رجلدی مل جاتا۔اور قبر تیار ہوگئی ہوتی۔تو غالباً اُسی وقت جنازہ پڑھا دیتے اور میت دفن کر دی جاتی لیکن اب ہمیں انتظار کرنا پڑا اور دوسرے دن جو جمعہ کا دن تھا۔حضور ایدہ اللہ نے بعد نماز جمعہ جنازہ پڑھایا اور حضور کے ساتھ ہزار ڈیڑھ ہزار کے قریب احباب بھی جنازہ میں شریک ہو گئے۔اس ضمن میں یہ ذکر کرنا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کے مطابق نماز جمعہ کے بعد ایسی ساعت شروع ہو جاتی ہے جو دعاؤں کی خاص قبولیت اور برکت کی ہے۔اس لئے امید ہے کہ حضور اور دیگر احباب کی دعائیں خدا کے فضل سے مرحومہ کے حق میں ضرور منظور ہوں گی۔اور اللہ تعالیٰ انہیں اپنے جوار رحمت میں خاص جگہ دے گا۔دوسرا فائدہ تار جلدی نہ پہنچنے کا یہ ہوا کہ میں جمعرات والے دن ۲۲ دسمبر کو راولپنڈی سے اپنے اعزہ و اقارب کو تاریں دے آیا تھا۔کہ مرحومہ فوت ہوگئی ہیں اور میں جنازہ ربوہ لے جارہا ہوں۔چنانچہ وہ سب یہ خیال کر کے کہ جنازہ بہر حال دوسرے دن بعد از نماز جمعہ ہوگا۔نماز جمعہ سے پہلے پہنچ گئے۔مرحومہ کا منہ دیکھ لیا۔اور جنازہ میں بھی شریک ہو گئے۔جیسا کہ عام طور پر عورتوں کی خواہش ہوتی ہے۔مرحومہ بھی یہ چاہتی تھیں اور دُعا کیا کرتی تھیں کہ میں اپنے خاوند سے پہلے اس کے ہاتھوں میں وفات پاؤں تاکہ بعد میں کسی اور کی محتاجی نہ کرنی پڑے۔چنانچہ یہ دعا بھی ان کی منظور ہو گئی۔میں اپریل ۱۹۴۹ء میں اپنی بیماری کی وجہ سے ربوہ کے پہلے جلسہ سالانہ میں شریک نہ ہو سکا اور اس دوسرے جلسہ میں بھی مرحومہ کی بیماری کی وجہ سے شمولیت کی امید نہ تھی۔مگر اُن کی موت ایسے وقت میں ہوئی کہ اس