اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 188 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 188

۱۸۸ مجھے قدر معلوم نہ تھی۔اور نہ یہ خیال آیا کہ یہ باتیں کسی زمانہ میں نہایت قیمتی خیال کی جائیں گی۔اس لئے نہ انہیں یاد رکھنے کی کوشش کی۔نہ کوئی نوٹ رکھا۔نہ کوئی ڈائری بنائی محض یا داشت کی بناء پر میں یہ باتیں بیان کر رہا ہوں ہیں۔(۱): اس زمانہ میں مہمان کوئی زیادہ تعداد میں نہیں ہوتے تھے۔لیکن اس وقت یہ عام دستور تھا کہ جو مہمان بھی آتا حضور کو اطلاع کر دیتا۔چاہے خود مل کر اطلاع کرتا۔یا کسی خادم کے ذریعہ اندر اطلاع بھیج دیتا اور پھر جب واپس جانے لگتا تو بھی آپ کو اطلاع کر کے جاتا۔ایک دفعہ میں قادیان آیا دو تین دن قیام کیا۔جس دن واپس جانا تھا۔اس سے ایک دن قبل شام کو میں نے ایک رقعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں تحریر کیا کہ میں صبح جانا چاہتا ہوں۔آپ نے واپس جانے کی اجازت مرحمت فرمائی اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ صبح جاتے وقت مجھے اطلاع دینا۔کئی اور دوست بھی واپس جانے والے تھے۔انہوں نے بھی اجازت کے لئے رقعے بھیجے ہوئے تھے۔چنانچہ صبح ہم نے اطلاع کر دی۔آپ باہر تشریف لے آئے اور بھی کئی دوست ہمراہ تھے اور ہمارے ساتھ الوادع کہنے کے لئے چل پڑے۔بعض دوستوں نے تانگے کرایہ پر لئے ہوئے تھے۔لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پیدل چل پڑے تو وہ بھی ساتھ ساتھ پیدل ہو لئے۔آپ بٹالہ جانے والی کچی سڑک کے پہلے موڑ تک جو غالباً دو میل کا فاصلہ ہے تشریف لے گئے۔اور رستہ میں اپنے غلاموں سے گفتگو فرماتے رہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو اپنے دوستوں کا کس قدر اعزاز مد نظر تھا کہ ان کو رخصت کرنے کے لئے آپ دو میل تک ان کے ساتھ تشریف لے گئے۔خاں صاحب کی روایات کے مآخذ ذیل ہیں: (۱) مجلس خدام الاحمدیہ بلاک ب ربوہ کے ایک اجلاس میں خود آپ کی بیان کردہ روایات جنہیں مکرم مولوی سلطان احمد پیر کوئی (زود نویس) نے مرتب کر کے الفضل ۱۷،۱۶ جون ۱۹۵۱ء میں شائع کیا۔(۲) روایات مندرجہ الفضل ۱۳۰۹ جنوری ۱۹۴۰ء (۳) اصحاب احمد جلد سوم طبع اول میں خانصاحب کی عطا کردہ روایات۔خاکسار نے بوقت طبع ثانی ان سب سے روایات کو مرتب کر کے شامل کیا ہے۔بعض جگہ ترتیب تبدیل کی ہے بعض جگہ اختصار کیا ہے۔بعض جگہ من وعن اصل عبارات ہی قائم رکھی ہیں۔بعض باتوں میں ان حوالہ جات میں بالعموم معمولی اختلاف ہے ان میں سے ایک کو اپنی سمجھ کے مطابق