اصحاب احمد (جلد 3) — Page 187
۱۸۷ کے دکھائے اور کئی واقعات ایسے پیش آئے جو از دیاد ایمان کا باعث ہوئے دعا ہے اللہ تعالیٰ احمدیت پر خاتمہ کرے اور موت کے بعد حضور کے قدموں میں جگہ دے۔آمین۔خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بدن پر جو میں نے کپڑا نہیں دیکھا بلکہ صرف نکہ نبد بندھا ہوا دیکھا تو اس کی تعبیر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے نے یہ بتائی کہ حضور علیہ السلام دنیا کی زیب وزینت سے آزاد ہیں اور درویشانہ زندگی رکھتے ہیں ہے۔قرآن کریم سے پتہ لگتا ہے کہ انبیاء کے زمانہ میں روحانیت کا عام انتشار ہوتا ہے۔فرشتے مستعد طبائع کو صداقت کی طرف مائل کرتے ہیں۔اور ساتھ ہی یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ ہر انسان اپنی اپنی طبیعت کے مطابق اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔جس شخص کو دلائل سے دلچپسی ہوتی ہے۔وہ اس میں ترقی کر جاتا ہے۔بعض کو عبادات سے دلچپسی ہوتی ہے وہ اس میں ترقی کرتے ہیں۔بعض طبائع مالی قربانی کی طرف مائل ہوتی ہیں۔اور وہ اس میں ترقی کر جاتی ہیں۔میں نے کہا۔برکت علی ! تو کس گروہ میں آتا ہے۔پھر خیال آیا کہ برکت علی ! تو سمجھ لے کہ تجھے دلائل دے کر اور معقولیت سے بات کرنے کا شوق تھا اور خدا تعالیٰ نے تجھے اس میں ترقی دے دی ہے ہی ہیں۔ذكر حبيب محترم خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں محترم خاں صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت صاحبزادہ صاحب نے صرف اتنی تعبیر ہی بیان کی تھی جو یہاں درج کی گئی ہے۔ایک صاحب نے جو اس سے زائد تعبیر شائع کی ہے وہ درست نہیں۔(مؤلف) الفضل ۱۴ جون ۱۹۵۱ء (ص ۴ ،۷) مجلس خدام الاحمدیہ بلاک ب ربوہ کے ایک اہم " " اجلاس میں زیر صدارت مکرم مولانا تاج الدین صاحب قاضی سلسلہ عالیہ احمد یہ آپ نے ذکر حبیب کے موضوع پر تقریر کی تھی جو مکرم مولوی سلطان احمد پیر کوٹی ( زودنویس ) کی طرف سے مرتب کر کے شائع کی گئی۔الفضل سے بوقت طبع ثانی اسے نقل کیا ہے اور طبع اول سے اس میں خطوط وحدانی میں اضافہ کیا ہے۔