اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 189 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 189

۱۸۹ (۲) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں جو لطف آتا تھا اور آپ کی ملاقات میں جو لذت آتی تھی وہ کسی اور جگہ کہاں نصیب ہوسکتی ہے۔جب آپ باہر تشریف لاتے تو لوگ آپ کے کپڑوں کو چھوتے اور اس سے برکت حاصل کرتے۔ایک دن جب کہ حضور مسجد مبارک سے غالباً نماز ظہر سے فارغ ہو کر کھڑکی کے راستہ سے اندر تشریف لے جارہے تھے کہ حسب دستور احباب نے آپ کو گھیر لیا۔جب دوسرے لوگ کپڑے چُھو رہے تھے۔اور ہاتھ چوم رہے تھے اور کوئی جسم مطہر کو ہاتھ لگا کر منہ اور سینہ پر ملتا تھا۔تو میں بھی آگے بڑھا۔حضرت خلیفہ اسیح اول جو پاس ہی تھے۔اٹھے اور پاس سے گذرتے ہوئے فرمایا۔اخلاص چاہئے اخلاص۔یہ الفاظ اب تک مجھے یاد ہیں میں نے دل میں کہا۔یہ بات سچی ہے۔کپڑوں کو چھونا اور ہاتھوں کو چومنا کوئی فائدہ نہیں دیتے جب تک اخلاص نہ ہو۔یہ ظواہر ہیں۔مغز نہیں۔چنانچہ اس دن سے میں اس بات کو ہمیشہ مد نظر رکھتا ہوں۔(۳): حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود بہت کم نماز پڑھایا کرتے تھے۔نماز اکثر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت خلیفہ اسیح اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ پڑھایا کرتے تھے۔ایک دفعہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے عذر کیا کہ مجھے شک ہے کہ میرے کپڑے صاف نہیں۔اس لئے میں نماز نہیں پڑھاتا۔نما ز کوئی اور پڑھا دے۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا۔ان کپڑوں میں کیا آپ کی نماز ہو جائے گی۔مولوی صاحب نے عرض کیا۔ہاں نماز تو ہو جائے گی اس پر حضور نے فرمایا کہ اگر آپ کو یقین ہے کہ آپ کی نماز ان کپڑوں میں ہو جائے گی تو پھر نماز پڑھائیں آپ کی اقتداء میں ہماری نماز بھی ہو جائے گی۔(۴) حضور کی صحت اچھی ہوتی تو نماز ظہر اور مغرب کے بعد مسجد مبارک میں دوستوں میں بیٹھ جاتے تھے۔اور جتنی دیر تشریف رکھتے مذہبی معاملات کے متعلق ذکر واذکار جاری رہتا۔بعض لوگ آتے اور کہتے کہ ہم نے اشعار بنائے ہیں اور آپ کو سُنانا چاہتے ہیں۔بقیہ حاشیہ: قبول کرلیا ہے۔استفسار پر خاکسار مؤلف کو محترم خانصاحب نے بتایا کہ اس دن واپس جانے والوں میں میرے سوا تین اور بھی تھے۔ان میں سے حضرت میر محمد سعید صاحب حیدر آبادی کا نام مجھے یاد ہے۔