اصحاب احمد (جلد 3) — Page 154
۱۵۴ اور روانہ ہوئے۔امرتسر پہنچے تو وہاں بڑی دیر لگی۔وہاں سے چلے تو راستہ میں چھ بسوں میں سے ایک خراب ہوگئی۔غرض خدا خدا کر کے لاہور بارڈر پہنچے تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا جنت میں آگئے ہیں۔رات کے دس بجے ہم جو دھامل بلڈنگ پہنچے۔الحمد لله ثم الحمد لله چنیوٹ کی امارت آپ بیان کرتے ہیں کہ بوجہ نزول الماء دفتر امانت سے فارغ ہونے پر تھوڑا ہی عرصہ گذرا تھا کہ انتخابات ہوئے۔چنیوٹ میں مکرم حاجی تاج محمود صاحب ایک نہایت نیک اور پاک بزرگ تھے۔میں نے ان کا نام پیش کیا۔مگر مکرم صوفی محمد ابراہیم صاحب امیر جماعت نے جو چنیوٹ سے ربوہ منتقل ہورہے تھے۔امارت کے لئے میرا نام پیش کیا اور مجھے متفقہ طور پر منتخب کر لیا گیا۔چونکہ مجھے وہم گمان بھی نہ تھا کہ چنیوٹ جیسی جگہ میں جہاں مجھ سے بدرجہا بہتر۔لائق اور قابل احمدی احباب موجود ہیں۔مجھے امیر بنایا جائیگا۔اس لئے مجھے حیرت پر حیرت ہوئی۔اور میں نے دعا مانگی کہ یا الہی تجھے علم ہے کہ میں نے اس امارت کی خواہش نہیں کی یہ تیری تقدیر کے ماتحت ہوا ہے۔مگر میں عرض کرتا ہوں کہ اگر اس کا نتیجہ ذلت اور گناہوں کی سزا ہے تو تیری صفات کا واسطہ دیتا ہوں کہ رحم فرما اور مجھے اس ذلت سے بچا اور میرے گناہ معاف فرما جن کی سزا مجھے ملنے لگی ہے۔اور اگر یہ کام تیرے دین کی خدمت کا ذریعہ بنے گا تو تیرا احسان وکرم ہے۔پھر میری مدد کر اور میرا معین ہو جا سوالحمد للہ کہ ۲۵ اکتوبر ۱۹۵۱ء تک وہ میری مددفرماتا رہا جس کے بعد میں ربوہ منتقل ہو گیا۔انفاق فی سبیل اللہ آپ کو انفاق فی سبیل اللہ کی توفیق ملی اور اس بارے میں آپ کے معیار اور تعہد سے ایک آریہ سماجی افسر بھی متعجب و متاثر ہوا آپ تحریر فرماتے ہیں : (۱): ڈیرہ اسماعیل خان میں جہاں میں ۱۹۳۴ ء میں متعین تھا ایک عجیب لطیفہ