اصحاب احمد (جلد 3) — Page 155
۱۵۵ ہوا۔ہمارا کرنل (جو انگریز تھا ) رخصت یا پنشن پر ولایت جانے لگا تو اس کو پارٹی دینے کی تجویز کلرکوں نے کر کے ایک فیصلہ کیا کہ چیف کلرک ہر ایک کلرک کی تنخواہ سے کچھ رقم کاٹ لے اور یہ ساری رقم جمع کر کے پارٹی کے اخراجات میں صرف کی جائے۔اس کے مطابق ایک فہرست بنائی گئی اور ہر ایک کلرک سے اس کے نام کے سامنے رقم لکھ کر دستخط کرائے گئے۔میرے نام پر جو رقم لکھی گئی وہ اتنی زیادہ تھی کہ میں اس کام کے لئے اس کو ادا کرنا پسند نہ کرتا تھا۔اس لئے میں نے اپنا نام کاٹ دیا۔اس پر دفتر میں شور پڑ گیا۔قریباً تمام کلرک اکٹھے ہو گئے ان کو دیکھ کر چیف کلرک آیا۔اس نے جب فہرست کئی ہوئی دیکھی تو کہنے لگا آپ نے یہ کیا کیا۔میں نے کہا آپ دیکھ رہے ہیں جو میں نے کیا ہے کہنے لگا کیا آپ کرنیل صاحب کو پارٹی دینا نہیں چاہتے۔میں نے کہا کہ میں اتنی رقم نہیں دے سکتا۔کہنے لگا کیا آپ باقی کلرکوں کا ساتھ نہیں دیں گے۔میں نے کہا یہ کوئی مذہبی بات نہیں جو مجھے مجبور کرے کہ میں ضرور دوں کہنے لگا یہ بعد میں فیصلہ کریں گے پہلے کر نیل صاحب سے پارٹی کا وقت معلوم کر لیں۔پوچھنے پر کرنیل نے کہا کہ پارٹی کے لئے میرے پاس کوئی وقت نہیں وہ لٹکتا ہوا منہ لے کر واپس آ گیا دفتر بند ہونے پر ہم گھروں کو روانہ ہو گئے۔مگر تمام کلرک میری اس جرات پر تعجب کرتے تھے۔بازار میں پہنچنے پر چیف کلرک نے مجھ سے پوچھا کہ اس قسم کی دلیری کی وجہ کیا ہے۔میں نے کہا میں احمدی ہوں اور ہر ایک احمدی ماہوار چندہ دیتا ہے۔اس لئے وہ اپنے اخراجات پر غور کرتا ہے کہ کیا میرے چندہ پر اثر تو نہیں پڑے گا۔میں نے بھی سوچا تو مجھے خیال آیا کہ یا میں چندہ نہ دوں یا گھر والوں کو مقررہ خرچ نہ دوں۔تب میں اتنی رقم جو آپ مانگ رہے ہیں آپ کو دے سکتا ہوں۔اس لئے میں نے فیصلہ کیا چندہ ضرور دینا ہوگا۔آپ لوگ ناراض ہو جاتے ہیں تو ہوں۔چیف کلرک مجھ سے پوچھنے لگا کہ کہ کتنا چندہ تم ماہوار دیا کرتے ہو۔میں نے جب بتایا تو تعجب سے کہنے لگا میں تو اتنی رقم آریہ سماج کو ( وہ آریہ تھا ) سال بھر میں بھی نہیں دیتا۔جتنی آپ ایک ماہ میں دیتے ہیں۔اور پھر کہا کہ اب مجھے سمجھ آئی کہ آپ لوگ اتنے دلیر کیوں ہیں یہ کہہ کر اور کچھ اثر لے کر چلا گیا۔(۲): اللہ تعالیٰ کے بعض انعامات بالکل اسی رنگ میں ملتے ہیں۔جیسے حضرت مسیح