اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 153 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 153

۱۵۳ لاہور پہنچ جائیں اور اس پر زور دیتے تھے جیسا کہ میں نے سُنا ہے۔یہ کہتے ہوئے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہجرت فرمائی تھی تو حضرت علی کو حکم دیا تھا کہ امانتیں جلد اُن کے مالکوں تک پہنچا دیں۔یہ تڑپ تھی جو احمدیوں کا مال بچا کر لانے کا ذریعہ بن گئی۔ورنہ بظاہر مجھے کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔” جب ہمارا قافلہ موضع مقتلے کی نہر کے پل پر پہنچا تو بس کے کلینز نے شور کرنا شروع کر دیا کہ سر نیچے کرو سامنے سکھ بندوقیں لے کر مورچے بنائے بیٹھے ہیں۔قریب ہے کہ قافلہ پر حملہ کر دیں ایک آفت سے تو مرمر کے ہوا تھا چینا! پڑ گئی اور یہ کیسی میرے اللہ نئی !! کہیں جب پل سے پار ہوئیں تو قافلہ کے انچا رج حوالدار نے حکم دیا کہ بسیں اسی جگہ ٹھہر جائیں اُس نے اُتر کر اپنی بُرین گن سیٹ کی اسی طرح اُس کے ایک ماتحت نے بھی۔سکھوں نے جو کھیتوں کی منڈیروں کی اوٹ میں بیٹھے ہوئے تھے اور ایک قسم کا مورچہ بنائے ہوئے تھے۔گولیاں چلانی شروع کر دیں مگر خدا تعالیٰ نے بچالیا قافلہ کے کسی فرد کو نہ لگیں۔اور حوالدار اور اس کے ساتھی نے فائر کرنے شروع کئے۔کہا جاتا تھا کہ تھیں بتیں سکھ مارے گئے اور باقی بھاگ گئے۔واللہ اعلم۔غرض قافلہ سے روانہ ہوا۔اور کچھ ہی دور گیا تھا کہ سامنے سے سکھوں یا ڈوگروں کی فوج کے افسر ایک جیپ میں آرہے تھے۔ہمیں خیال آیا کہ جب وہ سکھوں کی لاشیں دیکھیں گے تو ہمارے قافلہ کا تعاقب کر کے ہمیں روک لیں گے۔مگر خدا تعالیٰ نے رحم کیا اور ہم بٹالہ پہنچ گئے۔وہاں سٹرک پر دیکھا کہ ایک ڈھیر لگا ہوا ہے۔اور اس میں سینکڑوں قرآن مجید پڑے ہوئے ہیں۔ہم نے وہاں سے چند قرآن شریف اٹھا لئے۔بٹالہ میں قافلہ کو روکا گیا۔بڑی دیر میں چلنے کی اجازت ملی ہم نے خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا وہاں