اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 118 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 118

۱۱۸ راولپنڈی میں دعوت دی اور ساری رات بحث میں گزار دی مگر پیغامی احباب پر کچھ اثر نہ ہوا۔اللہ تعالیٰ نے مجھے ثواب دے دیا۔(۱۰): ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب لاہور جو مولوی محمد علی صاحب کے بڑے مضبوط باز و تھے اور جن کے مکان میں مولوی محمد علی صاحب رہتے تھے کوہ مری تبدیل ہو کر آگئے تھے۔غالبا ۱۹۲۵ء میں ایسا اتفاق ہوا کہ بابوشاہ عالم صاحب احمدی ہیڈ کلرک نمبر ۵۲ کیمل کو ر جہلم بھی میرے پاس کوہ مری تشریف لے آئے۔انہوں نے چاہا کہ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جائے۔اور مجھے گفتگو کرنے کو کہا۔پہلے تو میں نے بہت عذر کیا اور کہا کہ شاہ صاحب بہت سخت ہیں اور ان کی بے ادبی اور زبان درازی سے حضرت خلیفہ ثانی کا ذکر کرنے سے اشتعال آجاتا ہے۔بات کرنی مشکل ہو جاتی ہے۔مگر انہوں نے میری ایک نہ سنی۔اور مجھے اُن کی کوٹھی پر لے گئے۔تعارف کرانے پر شاہ صاحب نے کہا کہ وہ مجھے جانتے ہیں۔بارہا میری غائبانہ تعریف مولوی محمد علی صاحب نے اُن کے سامنے کی ہے۔یہ سُن کر میں نے دُعا کی کہ الہی یہ مجھے کسی بیچ میں لا کر خراب نہ کریں اور میں تعریفی الفاظ سُن کر خاموش نہ ہو جاؤں۔بلکہ حق پر قائم رہوں۔نماز ظہر کے وقت میں نے شاہ صاحب سے کہا کہ میں آپ کے پیچھے نماز نہیں پڑھوں گا۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ یہ بات نہ کہتے تو میں آپ کے پیچھے نماز پڑھنے کو تیار تھا۔مگر اب چونکہ آپ نے انکار کر دیا ہے اس لئے میں بھی الگ نماز پڑھوں گا۔غرض میں اور بابو شاہ عالم صاحب ہر دو نے اُن سے الگ نماز پڑھی۔اس کے بعد گفتگو شروع ہوئی۔میں نے عرض کیا کہ آپ صدر انجمن احمدیہ کے رُکن تھے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر قریباً تمام ارکان انجمن نے ہم لوگوں کو ہدایت کی تھی کہ سب احمدی حضرت خلیفہ اول کی اسی طرح فرمانبرداری کریں جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کرتے تھے۔ہم نے آپ کی ہدایت کی تعمیل کی۔اب ہم پر اعتراض ہے کہ تم محمودی ہو کر مشرک ہو گئے ہو۔اب خدا کے سامنے آپ کا گریبان ہوگا اور ہمارا ہاتھ۔یہ کہتے ہوئے کہ الہی ! یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہم کو خلیفہ کا فرمانبردار بنایا اور اب اگر اس فرمانبرداری کا نام خلیفہ پرستی ہے جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو انہیں سزا ملنی چاہیئے نہ کہ ہمیں۔ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب نے کہا کہ میرا نام ان اشتہارات میں چھاپا گیا