اصحاب احمد (جلد 3) — Page 119
۱۱۹ ہے حالانکہ میں نے شمولیت کا اظہار نہیں کیا۔میں نے کہا کہ یہ اور بھی ظلم ہے کہ ۱۹۰۸ء سے یہ شائع ہو رہا ہے اور اب کہ ۱۹۲۵ء ہے سترہ سال بعد آپ نے ظاہر کیا ہے کہ یہ غلط اشتہار ہے۔آج تک آپ نے کیوں حق کو چھپایا۔اور لوگوں کو دھوکے میں رکھا؟ وہ اس کا کچھ جواب نہ دے سکے پھر میں نے کہا اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ ایک مومن ہی سمجھ لیں تو آپ کو ماننا پڑیگا کہ ایک پچھتر سال کا مومن جو آخر عمر میں بات کہے گا وہ زیادہ پختہ ہوگی۔مگر یہ عجیب بات ہے کہ بقول آپ کے حضور نے انجمن کو اپنا جانشین بنایا اور اس خلیفہ نے جسے آپ نے بھی مطاع مانا اپنی خلافت کے زمانہ میں صاف صاف کہہ دیا کہ جانشین میں ہوں نہ کہ انجمن۔ایسا کیوں ہوا؟ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ حضور مسیح موعود علیہ السلام کی آخری بات زیادہ وزن دار ہوتی اور خلیفہ اس کی تائید کرتا۔شاہ صاحب نے کہا کہ پہلی دفعہ مریض کو دوا کی تین خوراک دیتے ہیں زیادہ نہیں اور لا جواب ہو کر گفتگوختم ہوگئی۔(۱۱) : غالبا اپریل ۱۹۱۴ء کی بات ہے کہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی مسجد مبارک میں تشریف لاتے اور پھر کسی کام کے لئے اندرون خانہ تشریف لے جاتے مگر کسی کو اجازت نہیں تھی کہ راستہ میں یعنی محراب مسجد مبارک سے بیت الفکر تک حضور سے مصافحہ کرے یا کوئی بات چیت کرے۔حضور کے پیچھے پیچھے جو خادم حضور کیساتھ جاتا تھا اسے میں نے ایک چھوٹے سے پرزہ کاغذ پر یہ شعر لکھ کر دیا۔دیدار می نمانی و پرہیز کی سی بازار خویش و آتش ما تیز می گنی تو حضور نے فرمایا کہ آپ اندر یعنی بیت الفکر میں آجائیں۔آپ کو کس نے روکا ہے؟ یہ حضور کی نوازش خسروانہ تھی۔اندر چند احباب بیٹھے ہوئے تھے۔میں بھی وہاں جا بیٹھا۔حضور کا کھانا آیا تو حضور نے مجھے بھی کھانے میں شمولیت کا شرف بخشا۔الحمد لله ثم الحمد لله۔(۱۲): ۱۹۱۸ء میں جب خلیفہ اسیح الثانی پر انفلوئنزا کے مرض کا سخت حملہ ہوا یہاں تک کہ آپ نے وصیت بھی لکھ دی تو ان دنوں میں نے ایک خط آپ کی خدمت میں لکھا۔اس میں یہ دعا کی تھی کہ خدایا ! میری نابکار زندگی کس کام کی ہے۔میری عمر جو باقی ہے