اصحاب احمد (جلد 3) — Page 117
112 یعنی میں حضرت خلیفہ ثانی کے اس انداز محبوبانہ کی کس طرح تصویر کھینچوں جو حضور کے بیان کے وقت حضور کے چہرہ اور بشرہ سے ظاہر ہوتا تھا۔مجھے یاد ہے کہ میں مدتوں یہ شعر ہی پڑھ کر مزے لیتا رہا۔(۷): غالباً ۱۹۲۰ء میں حضرت خلیفہ ثانی نے مجھے مخاطب کر کے حضرت مولوی علی احمد صاحب حقانی کا یہ شعر پڑھال صورت عکس پر آئینہ کو الٹا غرور! ہے منہ تو دکھلائے ادھر جب رُخ جاناں نہ ہو اور فرمایا کہ حقانی صاحب کا یہ شعر بہت عمدہ ہے خاکسار فضل احمد بیان کرتا ہے کہ حقانی صاحب نے اس شعر میں خواجہ کمال الدین صاحب کی تقاریر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اپنی تقاریر میں حضرت مسیح موعود کے بیان فرمودہ مضامین کو چھوڑ کر کچھ بیان تو کر کے دیکھیں کہ کلام میں کوئی چاشنی بھی باقی رہ جاتی ہے۔(۸): حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مصرع میں فرمایا ہے۔ع گر چہ بھاگیں جبر سے دیتا ہے قسمت کے ثمار یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرے ساتھ ہوا۔راولپنڈی میں ۱۹۱۸ء یا ۱۹۱۹ء میں بعد نماز جمعه سید حسن شاہ صاحب سے دوران گفتگو لاہور کے پیغامی احباب کے متعلق میری زبان سے کچھ سخت الفاظ نکل گئے اس پر سید حسن شاہ صاحب نے جو ان دنوں میں پیغامی خیالات رکھتے تھے غصہ منایا میں نے جوش سے دس روپے کا نوٹ نکال کر اُن کے سامنے کیا اور کہا کہ یہ لیں اور قادیان جا کر اس شخص کو تو دیکھیں جو خلافت کا دعویدار ہے۔پھر اگر دل پر اثر نہ ہو تو آپ بری الذمہ انہوں نے کہا میں روپے نہیں لیتا۔آپ میرے ساتھ چلیں۔دونوں قادیان چلتے ہیں۔میں نے کہا بہت اچھا چنانچہ ہم دونوں قادیان گئے۔اور انہوں نے قادیان میں نہ صرف بیعت ہی کی بلکہ قادیان کے ہی ہو گئے۔اور وہیں رہ پڑے اندیشہ تو یہ تھا کہ میرے سخت الفاظ کی وجہ سے فساد ہو جاتا مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے مفت کا انعام دے دیا۔یہ اللہ تعالیٰ کا جبر یہ انعام تھا۔الحمد للہ۔(۹) : ایک دفعہ تمام جماعت کے احباب اور بعض پیغامی احباب کو بلا کر کیمل کور