اصحاب احمد (جلد 2) — Page 538
538 کئے۔نو بجے کے (وقت) مدرسہ اور بورڈنگ ہاؤس دیکھا۔مکان نہایت بے ترتیب بنے ہوئے ہیں۔( پیر ) منظور محمد صاحب ( مرحوم موجد قاعدہ یسرنا القرآن) اپنے قاعدے کو سناتے رہے۔قاعدہ سائینٹیفک ہے۔پھر نماز جمعہ کے لئے ) مسجد جامع میں گئے۔وہاں پر مولوی عبد الکریم صاحب کا نہایت عمدہ خطبہ سنا۔نماز جمعہ کے بعد گھر آئے۔مولوی نورالدین (صاحب) میری درخواست پر تشریف لائے۔ان سے اپنے حالات امراض اور امور مدرسہ پر گفتگو ہوتی رہی۔اس کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب تشریف (لائے ) نماز عصر بیت الذکر میں پڑھی۔بعد نماز عصر فونوگراف حضرت اقدس کو سنائے اور دوسلنڈر مولوی عبدالکریم صاحب نے بھرے۔نماز مغرب کے لئے بیت الذکر میں گئے۔بعد نماز حضرت نے ڈوئی کی کتاب سنی اور مختلف امور پر بہت عمدہ تقریریں ہوئیں۔نوٹ۔یہ کتاب ڈوئی نے فریمسین کے حالات پر لکھی ہے اور عجب طرح ان اسرار کو ظاہر کیا ہے۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نہایت سفاک اور ظالم فرقہ ہے۔ممبران لاج بھی بخوف جان کسی کو کچھ نہیں بتلاتے۔۱۶/ نومبر ۱۹۰۱ء نماز تہجد پڑھی پھر نماز فجر کے لئے بیت الذکر میں گیا بعد نماز ڈیرہ آیا یہاں آکر میں نے ایک خط بابت حالات مدرسہ لکھا جس کا یہ خلاصہ تھا کہ حضرت اقدس کا اس مدرسہ سے کیا مقصد ہے۔اس خط کے بھیجنے کے تھوڑے عرصہ بعد حضرت اقدس سیر کے لئے تشریف لائے یہ کوئی ساڑھے آٹھ بجے تھے۔حضرت اقدس نے میرے خط ہی کی تمہید پر تمام سیر میں نہایت عجیب گفتگو فرمائی۔اس میں سے میرے خط کے متعلق خلاصہ تو یہ تھا کہ ہمارا اصل مقصد دینی تعلیم ہے۔مگر اس کو بسہولت مدرسہ میں داخل کرنا چاہئے تا کہ بچے گھبرانہ جائیں۔اور ہمارا مقصد صرف جاہل مولوی بنانا بھی نہیں کہ با وجود کتابوں کے پڑھنے کے عقل سے کام نہیں بقیہ حاشیہ: - ہوتی ہے۔دیکھو د یوار کی اینٹوں میں ایک کشش ہوتی ہے ورنہ اینٹ اینٹ الگ ہو جائے۔ایسی ہی ایک جماعت میں ایک کشش ہوتی ہے۔غرض خدا کی راہ میں شجاع بنو۔انسان کو چاہئے کبھی بھروسہ نہ کرے کہ ایک رات میں زندہ رہوں گا۔بھروسہ کرنے والا ایک شیطان ہوتا ہے انسان بہادر بنے۔یہ بات زور بازو سے نہیں ملتی۔دعا کرے اور دعا کرے۔صادقوں کی صحبت اختیار کرے۔سارے کے سارے خدا کے ہو جاؤ۔دیکھو کوئی کسی کی دعوت کرے اور نجس ٹھیکرے میں روٹی لے جائے اسے کون کھائے گا ؟ وہ تو الٹا مار کھائے گا۔باطن بھی سنوارو اور ظاہر بھی درست کرو۔انسان اعمال سے ترقی نہیں کر سکتا۔آنحضرت کا رتبہ سمجھنے سے ترقی کر سکتا ہے۔“