اصحاب احمد (جلد 2) — Page 537
537 بروز جمعه ۱۵/ نومبر ۱۹۰۱ء صبح چار بجے اٹھے۔نماز صبح بیت الذکر میں جماعت کے ساتھ پڑھی۔بعد نماز۔۔۔۔فونوگراف درست بقیہ حاشیہ: - آنے کا خیال و گمان بھی نہیں ہوتا۔یہ اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں وعدوں کے سچا کرنے میں خدا سے بڑھ کر کون ہے؟ پس خدا پر ایمان لاؤ۔خدا سے ڈرنے والے ہرگز ضائع نہیں ہوتے يجعل له مخرجًا یہ ایک وسیع بشارت ہے تم تقوی اختیار کرو۔خداتعالی تمہارا کفیل ہوگا۔اس کا جو وعدہ ہے وہ سب پورا کر دے گا۔دو مخفی رہنا ایمان میں ایک نقص ہے۔جو مصیبت آتی ہے اپنی کمزوری سے آتی ہے۔دیکھو آگ دوسروں کو کھا جاتی ہے پر ابراہیم کو نہ کھا سکی۔مگر خدا کی راہ بغیر تقویٰ کے نہیں کھلتی۔معجزات دیکھنے ہوں تو تقویٰ اختیار کرو۔ایک وہ لوگ ہیں جو ہر قت معجزات دیکھتے ہیں۔دیکھو آج کل میں عربی کتاب اور اشتہار لکھ رہا ہوں۔اس کے لکھنے میں سطر سطر میں میں معجزہ دیکھتا ہوں۔جبکہ میں لکھتا لکھتا اٹک جاتا ہوں تو مناسب موقع فصیح و بلیغ پر معانی و معارف فقرات والفاظ خدا کی طرف سے الہام ہوتے ہیں۔اور اس طرح عبارتوں کی عبارتیں لکھی جاتی ہیں۔اگر چہ میں اس کو لوگوں کی تسلی کے لئے پیش نہیں کر سکتا مگر میرے لئے یہ ایک کافی معجزہ ہے۔اگر میں اس بات پر قسم بھی کھا کر کہوں کہ مجھ سے پچاس ہزار معجزہ خدا نے ظاہر کر ایا تب بھی جھوٹ ہرگز نہ ہوگا۔ہر ایک پہلو میں ہم پر خدا کی تائیدات کی بارش ہو رہی ہے عجب تر ان لوگوں کے دل ہیں جو ہم کو مفتری کہتے ہیں۔مگر وہ کیا کریں ”ولی راولی سے شناسد کوئی تقویٰ کے بغیر ہمیں کیونکر پہنچانے۔رات کو چور چوری کے لئے نکلتا ہے۔اگر راہ میں گوشہ کے اندر وہ کسی ولی کو بھی دیکھے جو عبادت کر رہا ہو وہ بھی سمجھے گا کہ یہ بھی میری طرح کوئی چور ہے۔خدا عمیق در عمیق چھپا ہوا ہے اور ایسا ہی وہ ظاہر در ظاہر ہے۔اس کا ظہور اتنا ہوا کہ وہ مخفی ہو گیا جیسا سورج کہ اس کی طرف کوئی دیکھ نہیں سکتا۔خدا کا پتہ حق الیقین کے ساتھ نہیں پاسکتے۔جب تک کہ تقویٰ کی راہ میں قدم نہ ماریں۔دلائل کے ساتھ ایمان قوی نہیں ہوسکتا۔بغیر خدا کی آیات دیکھنے کے ایمان پورا نہیں ہوسکتا۔یہ اچھا نہیں کہ کچھ خدا کا ہو اور کچھ شیطان کا ہو۔صحابہ کو دیکھو کس طرح اپنی جانیں نثار کیں۔ابوبکر جب ایمان لایا تو اس نے دنیا کا کون سا فائدہ دیکھا تھا؟ جان کا خطرہ تھا اور ابتلا بڑھتا جاتا تھا مگر صحابہ نے صدق خوب دکھایا۔ایک صحابی کا ذکر ہے وہ کملی اوڑھے بیٹھا تھا کسی نے اس کو کچھ کہا۔عمر پاس سے دیکھتے تھے۔انہوں نے فرمایا اس شخص کی عزت کرو۔میں نے اس کو دیکھا ہے کہ یہ گھوڑے پر سوار ہوتا تھا اور اس کے آگے پیچھے کئی کئی نو کر چلتے تھے۔صرف دین کی خاطر اس نے سب سے ہجرت کی۔دراصل یہ آنحضرت کی روحانیت کا زور تھا جو صحابہ میں داخل ہوا۔اس کا کوئی جھوٹ ثابت نہیں۔ہرامر میں ایک کشش