اصحاب احمد (جلد 2) — Page 539
539 لیتے اور ثبوت کے بعد ہماری مخالفت پر اڑے ہوئے ہیں۔اور ہم کو اس سے بڑا افسوس اور رنج ہوتا ہے۔جب ہم اپنی جماعت میں اختلاف سنتے ہیں۔ہم تو یہ دعائیں کرتے ہیں کہ تم میں اتفاق ہو اور وہ گندی باتیں تم میں نہ ہوں جو دوسرے دنیا داروں میں ہیں۔میں اب تک اپنے مریدوں پر یہ حسن ظن کرتا ہوں ان سب کی نیت بہتر ہے گو اختلاف ہے۔اور اگر یہ حالت نقار تک پہنچی ہے تو پھر گویا ہم سے تم نے کچھ فائدہ ہی نہیں اٹھایا وغیرہ وغیرہ۔الحمد للہ کہ تفسیر اس دوران گفتگو میں عجیب ہی کی۔فرمایا کہ مخالف ہی معارف کے ظاہر کرنے کا باعث ہوتے ہیں۔ابوبکر نے کیا معارف ظاہر کرائے تھے جو بلا دلیل دریافت مان بیٹھے تھے۔فرمایا کہ اگر مخالفت نہ ہوتی تو قرآن شریف کے یہ تمیں سیپارہ نہ ہوتے۔ہماری کتابیں بھی مخالفین ہی نے لکھوائی ہیں۔الحمد بھی آئندہ کے مخالفین نے لکھوائی ہے۔فرمایا عیسائی الرحمن اور الرحیم کے منکر ہیں۔اور غیر المغضوب عليهم ولا الضالین میں پیشگوئی ہے۔مغضوب علیہم سے مراد مخالف یہود اور الضالین سے مراد عیسائی ہیں۔تو اشارہ کہ چونکہ مسلمانوں نے یہودیوں ( کی ) مماثلت کرنی ہے اس لئے ان کے لئے انہی میں سے مسیح آنا چاہئے تھا اور عیسائیت کا بھی عروج۔واپسی پر مدرسہ کے لئے چندہ فراہم کرنے کی تقریر کی بلکہ یہاں تک (فرمایا ) کہ جو ایسے چندہ سے پہلو تہی کرتے ہیں وہ گویا ہمارے مرید نہیں۔بعد سیر۔۔۔کھانا کھایا اور پھر مدرسہ دیکھنے گئے۔اس کے بعد معائینہ مدرسہ کا ذکر ہے جو مدرسہ کے تعلق میں نقل ہو چکا ہے (مؤلف)۔اس کے بعد نماز ظہر اور عصر جمع پڑھی گئی۔پھر مدرسہ کے متعلق مولوی عبد الکریم صاحب اور حضرت مولوی نورالدین صاحب سے گفتگو ہوئی۔بعد نماز مغرب ڈوئی کی کتاب پڑھی گئی۔ہاں نماز مغرب سے پہلے میں نے ایک خط بابت خلاصه گفتگو مولوی نورالدین صاحب بھیجا خاں صاحب نواب خاں صاحب نے نماز مغرب کے بعد تجدید بیعت کی۔مولوی عبد الکریم صاحب نے شیخ عبد اللہ بی۔اے کا خط سنایا جو مولوی نورالدین صاحب کے نام آیا تھا۔اور اس میں صوفیوں پر پھبتیاں اور حضرت اقدس پر اعتراضانہ اشارے کئے تھے۔آج حضرت اقدس الف- مراد چوہدری نواب خان صاحب تحصیلدار گجرات جو ۱۶ نومبر کو قادیان آئے جیسا کہ الحکم جلد ۵ نمبر ۴۲ صفحه ۱۳ کالم میں مرقوم ہے۔(ب ) الحکم جلد نمبر ۴۲ صفحہیم پر زیر عنوان ” دار الامان کی شام مکرم مفتی محمد صادق صاحب کے ڈوئی کے لیکچر سنانے کا اور ڈائری میں مرقوم البام ورڈ یا کا ذکر ہے۔جیسا کہ میں نواب صاحب کے سرسید مرحوم سے تعلق کے ضمن میں تحریر کر چکا ہوں۔گوشیخ عبداللہ صاحب کا نام فہرست آئینہ کمالات اسلام میں ۲۹۹ نمبر پر ذکر ہے لیکن مکرم عرفانی صاحب فرماتے ہیں کہ شیخ عبد اللہ نے کبھی بیعت