اصحاب احمد (جلد 2) — Page 411
411 خلاصہ کلام یہ ہے کہ اب بھی خیر خواہانہ طور سے عرض کرتا ہوں کہ جناب دوراندیشی کو کام میں لا کر انجام دیا کریں کہ آخر میں مبارک بنده است معاف فرما دیں گو اس وقت جناب حکام رس ہیں اور حکام کے دل میں جناب کی عزت بہت بڑی ہے کہ جناب سنبھل جائیں ورنہ افسوس سے کہنا پڑے گا۔گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں۔آپ کے متعلق ایسی بے تکلفی کی حالت میں جو کچھ مجھ کو معلوم ہوتا رہا ہے یہ ہے کہ ادنیٰ سے ادنی آدمی سے لے کر بڑے سے بڑے تک آپ سے ناراض ہیں اور بے رغبتی کا یہ عالم ہے کہ جو کچھ لوگ منہ سے کہنا چاہتے ہیں علامیہ کہہ گزرتے ہیں اور وہ باتیں وثوق سے کہتے ہیں کہ جو آپ کی شان ریاست یا منصب سپرنٹنڈی کے لئے موزوں نہیں آپ یہ خیال نہ فرمائیں کہ حکام کو اطلاع نہیں پہنچتی بلکہ آپ کو یقین ہے کہ ضرور پہنچتی ہے اور وہ مفید نہیں ہے۔اگر کسی مظلوم کی آہ یا کسی بیوہ کی پکار پر خداوند تعالیٰ جو دانا و بینا ہے۔اور جس کی یہ ڈھیل آپ کے لئے مفید نہیں بلکہ خطر ناک ہے توجہ کی تو پھر خدا کی پناہ ۲۸۸ چراغے کہ بیوہ زنے پر فروخت بسے دیدہ باشی کہ شہرے بسوخت بنترس از آه مظلوماں کہ ہنگام دعا کر دن اجابت از در حق بہر استقبال می آید جناب کو معلوم ہے کہ حکام کی خوشی یا نا راضگی ایک عارضی ہے اصل خوشی یا نا راضگی اس الرحمن الرحیم کی ہے جو مالک یوم الدین ہے اگر وہ مہربان ہے تو کل مہربان۔پس جناب چند منٹ غور فرمائیں کہ کیا یہ سب امور اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ امور ہیں اور پھر اس کی مصالحت کی یا فاذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ ﷺ کی ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کا مقابلہ ہے خدا وند تعالیٰ کی گرفت سے ڈرنا چاہئے۔اور اس کی پکڑ نہایت سخت ہے اور اس کی لاٹھی میں آواز نہیں۔اور وہ اچانک آپڑتی ہے جناب بے غرضانہ عدل وانصاف پر کمر باندھیں خداوند تعالیٰ سے صلح فرما ئیں پھر خداوند تعالی خود آپ کا مددگار اور کفیل ہو گا آپ خیال فرما ئیں کہ ضحاک کی بارعب سلطنت کو ایک لوہار کا وانے کس طرح تہ و بالا کر دیا تھا ذراسی بات اگلی پچھلی سب کو بگاڑ دیتی ہے۔جناب اس وقت کو ذرا تھوڑا سا خیال فرمائیں جو کمشنر صاحب بہادر کے سال گزشتہ کے آنے پر نمونہ ہم دیکھتے ہیں کہ ذلیل آدمی نے کس طرح پر آپ کو اور آپ کے محکمہ کو تکلیف دی اور اب پھر وہ آیا اپنے کئے پر پشیمان ہے۔یا اس کی جرات دوبالا ہے یہ کیوں؟ اس کا جواب جناب خود ہی دے سکتے ہیں۔پس آخر میں نہایت بے غرضانہ طور سے استدعا ہے کہ آپ خدا کے لئے اپنے طرز عمل کو بدلیں۔