اصحاب احمد (جلد 2) — Page 412
412 خدمات سلسلہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حضرت نواب صاحب نے کیا مالی کیا حالی اور کیا قالی غرضیکہ ہر رنگ میں سلسلہ کی بیش از بیش خدمات سرانجام دیں جس کی تفصیل آگے آتی ہے اور ان کا قدم ہرلمحہ شاہراہ ترقی پر گامزن رہا اور انہوں نے سلوک کی بہت سی منازل طے کیں اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو اور ان کی اولا دکو اپنے خاص فضل سے اور بے نظیر رنگ میں نوازا۔و ذالک فَضَلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاء تبلیغ ان خدمات جلیلہ میں سے تبلیغ بھی ہے۔حضرت نواب صاحب جن حالات میں کفر گڑھ سے اپنی شجاعت سے نکل آئے تھے ایسی دلیری کا اظہار ہر ایک سے ممکن نہیں۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انتہائی محبت رکھنے اور آپ کی خاطر قوم کی مخالفت سہیڑ نے کے باوجود آپ کے چا ابو طالب مرتے وقت بھی جب کہ دنیا کے علائق منقطع ہوتے یقینی طور پر نظر آتے ہیں، اپنی قوم کے خیال سے ایسی دلیری کا اظہار نہ کر سکے۔بیعت کے تعلق میں ہم ذکر کر چکے ہیں کہ حضرت اقدس نے نواب صاحب کے بیعت کو مخفی رکھنے کو پسند نہ کیا۔اور آپ نے حضور کے ارشاد پر اعلان کے لئے عرض کر دیا۔آپ طبقہ امراء کے لئے خصوصاً اور دوسروں کے لئے عموماً عملاً حجت ٹھہرے کہ ایسا رئیس جب دین کی خاطر علائق د نیو یہ کو پس پشت ڈالتے ہوئے امام الزماں پر ایمان لاکر بڑی سے بڑی قربانی کر سکتا ہے تو دیگر امراء کیوں نہیں کر سکتے اور عوام کے لئے تو کوئی عذر باقی ہی نہیں رہتا۔آپ کی بیعت اور پھر آپ کی فدائیت کا اعلیٰ نمونہ مجسم تبلیغ تھا آپ نے تبلیغ سے کسی قسم کا دریغ نہیں کیا۔اس تعلق میں بعض باتوں کا آپ کی ڈائری سے علم ہوتا ہے جو درج ذیل کی جاتی ہیں تحریر فرماتے ہیں۔۱۳ جنوری ۱۸۹۸ء۔’ ایک خط مولوی عبداللہ صاحب کو لکھنا شروع کیا۔مراد آپ کے استاد مولوی عبداللہ صاحب فخری ہیں جن کی تحریک پر آپ نے حضرت اقدس سے خط و کتابت شروع کی تھی۔۱۵/جنوری ۱۸۹۸ء نماز تہجد کے بعد استخارہ کیا کہ آیا مجھ کو حضرت اقدس ( کی ) تائید میں لکھنا چاہئے آپ کے تین تبلیغی خطوط جو محفوظ ہیں درج ذیل کئے جاتے ہیں ان کے علاوہ دومکتوب مورخہ ۹-۰۲ - ۱۴-۶-۰۴-۲۷ پہلے ہجرت کے ذکر میں درج ہو چکے ہیں اور بہن کے نام ایک مکتوب الحکم بابت ۱۰-۸-۰۳ میں شائع ہو چکا ہے۔مولوی عبد اللہ صاحب فخری جس کو آپ ۱۲ فروری ۱۹۰۲ء کو تحریر فرماتے ہیں۔