اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 410 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 410

410 ہیں اور مجھ کو اعتراف ہے کہ آپ نے مہربانی سے میری معروضات پر التفات ہی کیا ہے اور بلکہ ان کا اثر اس وقت میں نے آپ پر پایا ہے مگر معلوم نہیں کہ کثرت مشاغل یا بعد زمانہ کے سبب سے ان امور کا ذہول ہو جاتا ہے یا با وجود یا د ہونے کے دوسرے اموران پر غالب آجاتے ہیں اور پھر جناب وہی راہ اختیار فرمانے لگتے ہیں جس سے نہ اپنے فائدے کے لئے بلکہ آپ کے فائدہ کے لئے محض ہمدردانہ طور سے آپ کو روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔میں اس وقت کو ٹلہ میں ہوتا تو آپ کے حسن اخلاق پر جیسا کہ پہلے میں نے عمل دیکھا ہے بھروسہ کر کے آپ کی خدمت میں پھر عرض کرتا اور اب بھی انہیں اخلاق کے سبب سے کرمہائے تو مارا کرد گستاخ اس نیاز نامہ کے لکھنے کی جرات کی ہے میں امید کرتا ہوں کہ جناب ٹھنڈے دل سے میری اس عرض کو سنیں گے۔اور اگر کوئی لفظ داروئے تلخ کی طرح خلاف مزاج معلوم ہو تو رفع مرض کے خیال سے یا عفو کے ساتھ معاف فرما ئیں؟ جناب کو معلوم ہے کہ آپ کے اس دوران سپرنٹنڈی میں (کیونکہ آپ اس عرصہ کی شہادت دے سکتے ہیں ) میری پالیسی نیوٹرل رہی ہے اور ہر طرح کے انٹریگ (Intrigue) سے میں الگ رہا ہوں اور حتی الا مکان فتنہ کا فر کرنا میری غرض رہی ہے جناب سے اور اسی طرح دیگر اہل قرابت و غیر قرابت سے نہ مخالفانہ نہ موافقانہ برتاؤ رہا ہے اور کسی مخالف یا موافق سازش میں شریک نہیں ہوا ہاں یہ ضرور ہے کہ اگر کسی نے کوئی مشورہ طلب کیا تو بے ضرر رائے جو اس کے لئے مفید دکھی دے دی یا بعض اوقات آپ کی خدمت میں بعض باتیں عرض کیں جن کا نتیجہ آخر تجربہ کے بعد آپ نے میری گفتگو کے مطابق پایا چنانچہ کوٹلہ کے لوگوں کے ساتھ بے تکلفانہ بلا امتیاز حفظ مراتب نرمی کے برتاؤ کی بابت میں نے عرض کیا تھا کہ آپ کا رعب جاتا رہے گا۔چنانچہ جناب نے دیکھ لیا اور یہ بھی دیکھ لیا کہ یہ لوگ کہاں تک بھروسہ کے قابل ہیں۔پھر رشتوں کے معاملات میں آپ سے عرض کی تھی کہ ان میں آپ اپنی خواہش ظاہر نہ فرما ئیں ورنہ ناکامی ہوگی وہ بھی ظاہر ہے۔اور باقی امور بھی آپ پر روشن ہیں۔بھائی صاحب خاں صاحب محمد یوسف علی صاحب مرحوم کی وفات پر بھی میں نے عرض کیا تھا۔اس وقت اگر جناب مہربانی سے میری عرض کو قبول نہ کرتے تو جناب کو معلوم ہی ہے کہ بڑی ناراضگی پھیلنے کا اندیشہ تھا اور میری اس عرض کو قبول کرنے کا یہ نتیجہ ہے کہ اس وقت تک کوئی بات آپ کے خلاف مزاج نہیں ہوئی اور جو آپ چاہتے تھے وہ سب کچھ ہوا۔مگر کوئی شورش نہیں ہوئی تمام امور امن وامان سے طے پاگئے۔مگر بعض غلطیاں اس بارہ میں اس وقت عرض کی گئی تھیں وہ بعض اب تک موجود ہیں اور ان پر التفات کسی وجہ سے نہیں فرمایا گیا اور وہ ٹھیک معلوم نہیں ہوتیں۔