اصحاب احمد (جلد 2) — Page 360
360 کھڑے ہو کر تقریر کی اور کہا کہ حضرت اقدس کی اولا د کیا ذکور کیا اناث مستحق خلافت ہیں۔پھر میر ناصر نواب صاحب اور پھر میرا نام لیا اور فرمایا کہ میں تو امتہ الحفیظ کی بیعت کرنے کو بھی تیار ہوں اور پھر بیعت لی۔اس کے بعد تمام جماعت موجودہ نے بیعت کی۔اب جائے غور ہے کہ اس وقت تو محض چند اشخاص نے مشورہ کر کے خلیفہ بنالیا اور اب تو قریباً ڈھائی ہزار آدمی کے سامنے معاملہ پیش کیا گیا اور انہوں ( نے ) خلیفہ منتخب کیا اور اس قدر جوش ظاہر کیا کہ دوسری بات بھی سنے کا انتظار نہ کیا اور بیعت (کے) لئے آن پڑے اور کسی کو اس قدر مہلت بھی نہ دی کہ اپنی جگہ سے ہل سکے۔میاں صاحب بھی بیچ میں دب گئے اور رنگ فق ہو گیا اور گھبرا کر فرمایا کہ مولوی صاحب ( مولوی سرورشاہ صاحب مجھ کو تو بیعت کے الفاظ یاد نہیں آپ بتلائیں چنانچہ مولوی سرور شاہ صاحب بتلاتے گئے اور میاں صاحب بیعت لیتے گئے ہیں یہ امر بھی قابل اظہار ہے کہ میاں عبداحی صاحب بھی ہمارے تمام مشوروں میں شریک رہے اور ان کے شریک ہونے کی وجہ سے حضرت خلیفتہ المسیح علیہ السلام کی وصیت تھی جو حضرت نے اپنے انتقال سے پانچ چھ گھنٹے پہلے عبدالحی کو کی تھی اور وہ یہ تھی کہ میں اللہ تعالیٰ اور محمد رسول اللہ پر ایمان رکھتا ہوں اور مرزا صاحب کو مسیح موعود اور نبی مانتا ہوں اور مجھ کو حضرت مسیح موعود کی اولاد تم سے کہیں زیادہ پیاری ہے۔پھر ایک مصر کے خط پر لکھا کہ اب ہمارا علم بہت بڑھ گیا ہے ہم تم کو پڑھائیں گے اور اگر ہم نہ ہوئے تو میاں محمود احمد صاحب سے پڑھنا۔* پھر ایک دفعہ فرمایا کہ شاہ سلیمان صاحب ۲۲ برس کی عمر میں خلیفہ ہوئے۔میں (نے ) یہ امر ایک خاص بقیہ حاشیہ: - لئے اور ظہر کی نماز کے لئے جو مسجد مبارک میں آپ نے پڑھائی تھی آپ شہر تشریف لائے تھے اور جو نفل پڑھنے کا اوپر ذکر آیا ہے یہ فضل آپ نے اپنے مکان میں پڑھے تھے۔(مؤلف) حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کے الفاظ بیعت بتلاتے جانے کا ذکر حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے آئینہ خلافت میں صفحہ ۱۹۱،۱۹۰ اپر اور مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے الحکم جو بلی نمبر میں صفحہ ۳۵ کالم ۳۲ پر کیا ہے۔(مؤلف) اس وصیت کا مفصل ذکر (الفضل جلد نمبر ۴ صفحہ اکالم ۱) پرچہ ۱۸ مارچ ۱۹۱۴ء میں موجود ہے۔(مؤلف) * حضرت خلیفہ المسیح اول نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو فرمایا اگر زندگی باقی ہے تو تمہیں ہفتہ کے روز قرآن ختم کر دینے کا ارادہ ہے ورنہ میرے بعد اپنے بھائی سے ختم کر لینا۔“ (مؤلف)