اصحاب احمد (جلد 2) — Page 361
361 وجہ سے کہا ہے۔اس کو یا درکھوتمہارا بھلا ہوگا۔وصیت میں بھی غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے حضرت نے اشارہ کر دیا ہے کیونکہ آپ نے اپنی اولاد اور حضرت صاحب کے نئے پرانے احباب کی بابت وصیت وسفارش کی مگر اہل بیت کی بابت کچھ نہ لکھا۔اور تعجب ہے کہ جن کو وہ اس قدر محبت کرتے ہیں ان کی بابت کچھ نہ تحریر فرما ئیں۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ خلیفہ حضرت موصوف اہل بیت سے سمجھتے تھے۔اسی طرح بہت سے شواہد ہیں۔خودحضرت مسیح موعود علیہ (السلام) کے الہامات بھی شاہد ہیں۔اور ( یہ ) امر بھی قابل لحاظ ہے کہ موافقین تو خیر میاں صاحب کی طرف خیال رکھتے ہی تھے مخالفین کا بھی تو یہی خیال تھا کہ میاں صاحب ہی قابل خلافت ہیں۔کیونکہ مولوی محمد علی صاحب کے اعلان ضروری کو پڑھنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ ایک خاص شخص کی طرف تمام قوم کا رجحان ہے اور ان کو خوف ہے (کہ) وہ خلیفہ ضرور ہو گا۔کیونکہ قابل وہی ہے اس لئے کوئی ایسی پابندی لگائی جائے کہ ان کے اظہار خیالات کو وہ نہ روک سکے اس سے عام قبولیت ظاہر ہے۔اب میں اس طرف آتا ہوں کہ مولوی محمد علی صاحب وغیرہ جیسا کہ ان کے اعلان سے معلوم ہوتا ہے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کو تین چار امور میں اختلاف ہے۔اول مسئلہ کفر، اول تو یہ مسئلہ ایسا اہم نہیں کہ جس کی وجہ سے قوم کے دو ٹکڑے ہوں۔اور پھر خود میاں صاحب سے وہ بعد از خلافت بھی گفتگو کر سکتے تھے اور بعد کی مولوی محمد علی صاحب کی گفتگو جو مولوی فضل دین صاحب مولوی فاضل مختار بٹالہ سے ہوئی اس کا ماحصل یہی تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منکر مسیح موعود کے کافر ہیں اور میاں صاحب بھی اس کے قائل ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کفر دراصل حضرت رسول کریم کا کفر ہے کیونکہ حضرت مرزا صاحب بروز محمد تھے اور وہ ظلی نبی تھے۔اسی طرح ان کا کفر بھی ظلمی کفر ہے۔اور کفر دوں کفر صحیح امر ہے۔پھر آپ ہی بتلائیں کہ اختلاف کیا ہے؟ یہ صرف اختلاف کے لئے حیلہ ہے۔دوسری بات انہوں نے یہ درج کی ہے کہ انجمن کو تو ڑنا چاہتے ہیں۔اول تو سوال یہ ہے کہ انجمن کیا ہے۔قواعد کی رو سے تمام جماعت انجمن ہے کیونکہ تمام افراد احمدی انجمن کے ممبر ہیں تو کیا تمام سلسلہ کو توڑنا چاہتے ہیں؟ اور پھر مجلس معتمدین کیا یہ صرف سات آدمیوں خواجہ صاحب، مولوی محمد علی صاحب، ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب، ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب،مولوی غلام حسین صاحب، سید حامد شاہ صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب کا نام ہے؟ کیا اس میں میاں صاحب اور خاکسار اور مولوی احسن صاحب، ڈاکٹر رشید الدین صاحب ، ڈاکٹر سید محمد اسمعیل، مرزا بشیر احمد صاحب، مولوی شیر ( علی ) اور سیٹھ عبدالرحمن صاحب نہیں۔اور کیا اتنے ہی ممبر دوسرے خیال کے نہیں؟ اور پھر سب سے زیادہ بدر جلد ۹ نمبر ۱۴ صفحہ ۹ کالم ۳ پر چہ ۲۷ / جنوری ۱۹۱۰ء میں یہ ارشاد چھپ چکا ہے۔(مؤلف)