اصحاب احمد (جلد 2) — Page 359
359 ہی کیا کرتے تھے اور انہی کے انتخاب پر سب بیعت کرتے تھے۔حضرت ابو بکر کی خلافت کے وقت صرف تین آدمیوں نے بیعت کی اور انہی کی بیعت سے دوسروں نے بیعت کی اب پھر حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب مرحوم مغفور خلیفہ اسیح علیہ السلام کے انتخاب کے وقت جو ہواوہ عرض کرتا ہوں۔پہلے لاہور میں مولوی محمد احسن صاحب نے حضرت خلیفہ اسی مرحوم کو کہا انت صدیق و نحن متبعوک۔اور پھر مولوی محمد سعید صاحب حیدر آبادی نے ایک کاغذ پر دستخط کرائے کہ مولوی نورالدین صاحب خلیفہ ہوں پھر خود حضرت موصوف نے مجھ کو کہا کہ کوئی خلیفہ مقرر ہو جانا چاہئے۔اس کے بعد میں اور خواجہ کمال الدین صاحب اور ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب نے لاہور سے قادیان ( آکر ) اس امر پر گفتگو کر کے فیصلہ کیا کہ خلیفہ قبل از دفن حضرت مسیح موعود علیہ السلام مقرر ہو جانا چاہئے۔بلکہ جب ہم قادیان پہنچے اور یہ بات چلی تو مولوی محمد علی صاحب نے اس وقت کہا کہ اتنی جلدی کی کیا ضرورت ہے تو خواجہ صاحب نے کہا ) کہ نہیں خلیفہ ضرور قبل از دفن حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہو جانا چاہئے۔پھر میرے مکان پر آ کر مندرجہ ذیل اصحاب نے مشورہ کیا۔خواجہ کمال الدین صاحب، ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب، ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب، مولوی محمد علی صاحب، خاکسار راقم الحروف اور مولوی نورالدین صاحب کو خلیفہ تجویز کیا اور پھر مولوی محمد احسن صاحب کو بھی بلایا گیا۔انہوں نے بھی حضرت مولانا موصوف کو تجویز کیا۔پھر حضرت میاں صاحب کو بلایا۔انہوں نے بھی یہی امر پیش کیا کہ مولوی نورالدین صاحب خلیفہ ہوں۔پھر ہم سب حضرت میر ناصر نواب صاحب کے پاس باغ میں گئے۔انہوں نے بایں الفاظ حضرت مولانا مرحوم کو خلیفہ تجویز کیا کہ ”جس کو تم خلیفہ بنانا چاہتے ہو وہ بھی چراغ سحری ہے۔دو ڈھائی برس زندہ رہیں گے۔پھر خواجہ صاحب حضرت ام المؤمنین علیہا السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اور ان سے مشورہ چاہا تو حضرت ام المؤمنین نے بھی مولوی صاحب کو ہی تجویز کیا۔پس یہ کل مشورہ تھا اور پھر خواجہ صاحب اور ہم مولوی صاحب مرحوم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ ہم آپ کو خلیفہ بنانا چاہتے (ہیں) آپ بیعت میں مولوی صاحب نے پہلے مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی بیان کرتے ہیں کہ یہ مشورہ حضرت نواب صاحب کے مکان کے اس کمرہ میں ہوا جو کہ محمد یا مین صاحب تاجر کتب کی دکان کے ملحق جانب شمال ہے اس کمرہ کا ایک دروازہ عین گول کمرہ کے صحن کے بالمقابل کھلتا ہے۔(مؤلف) مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی بیان کرتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول حضرت اقدس کے جنازہ مبارک کے پاس ہی ٹھہرے رہے اور تدفین کے بعد ہی وہاں سے شہر تشریف لائے۔البتہ کھانا کھانے کے