اصحاب احمد (جلد 2) — Page 310
310 صاحبہ کے پاس فلاں چیز دیکھی۔فلاں رنگ کا کپڑا دیکھا۔تو وہ شاید اثر ڈالنے کو حضرت اماں جان کا نام لے لیا کرتی ہونگی لیکن ان کے خاوندوں پر الٹا اثر پڑتا تھا۔(ن) نواب مبارکہ بیگم صاحبہ فرماتی ہیں کہ ستا زمانہ تھا۔ریشمی ململ قادیان میں چار آنہ گز مل جاتی تھی اگر کسی خدمت گذار لڑکی کو جواکثر محض اخلاص سے کام کرنے والے لوگ تھے تنخواہ دار نوکر ہی نہ تھے۔کسی خوشی کے موقعہ پر کپڑے بنوا دیئے گئے یا ان کو ان کی عزت کے مطابق شریفانہ لباس میں رکھا گیا تو اس پر بھی اعتراض کر دیئے جاتے تھے۔ان باتوں کا نواب صاحب کے دل پر اتنا سخت اثر پڑا تھا کہ میں نے ہمیشہ دیکھا کہ ان کو اعتراض کرنے کی عادت سے انتہائی نفرت تھی۔وہ اس کو ایک خطر ناک مہلک علامت کہا کرتے تھے۔جہاں کسی نے کسی دوسرے پر ڈال کر بھی گول مول الفاظ میں کوئی ایسی بات کی انہوں نے فورآمنہ بند کیا اور ان کو غصہ آجاتا تھا۔اس تعلق میں بہت جوش سے کام کرتے تھے۔اگر کوئی کہتا کہ لوگ کہتے ہیں تو بہت خفا ہوتے کہ لوگ نہیں کہتے۔تم کہتے ہو۔لوگوں کا نام لے کر بات کرنا اپنے نفس کی کمزوری ہے۔اعتراض کرنے والے میں نے تباہ ہی ہوتے دیکھے ہیں میں اس علامت سے بہت ڈرتا ہوں۔نواب صاحب خلافت کیلئے حد درجہ غیرت رکھتے تھے۔جہاں بھی موقعہ ملتا ان مخالفین خلافت کے متعلق لکھنے یا زبانی بتانے سے نہ چوکتے تھے بیسیوں بارایسا موقعہ گھر میں آیا کسی لڑکے نے بات کی یا کسی غیر احمدی عزیز نے ہی پوچھنے کی خاطر ان لوگوں کے متعلق سوال کر دیا پھر جب تک انکی ہسٹری کھولکر نہ سُنا لیتے چین نہ آتا تھا۔اس فتنہ سے وہ سخت متنفر تھے کہتے تھے کہ بعض کی فریب خوردہ ہونے تک تو خیر مگر جو لوگ ان میں سے سب کچھ جان کر محض ضد اور تعصب سے یہ ڈھونگ رچا رہے ہیں۔مجھے تو ان پر غصہ آتا ہے۔نواب صاحب اس فتنہ کی اصل جڑ محض ” حسد “ اور ”غرور جتلایا کرتے تھے کہتے تھے کہ اپنی ذات کی قیمت لگانے نے ان لوگوں کو ڈ بود یا ور نہ یہ کونسی بات نہیں سمجھتے۔حضرت مسیح موعود کی تدفین کے چھٹے روز اس گروہ کی حالت حضور کے وصال پر اس گروہ کا بھی اس امر پر اتفاق تھا کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب کو خلیفہ منتخب کیا جائے اور یہ کہ بغیر خلیفہ کے جماعت کا گزارہ نہ ہوگا۔لیکن انتخاب کے چھٹے روز کے متعلق ذیل کے بیان سے ان کی زود پشیمانی عیاں ہوتی ہے حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب بیان فرماتے ہیں کہ: ”ہمارے کرتے دھرتے اور اصحاب حل و عقد پھر قادیان تشریف لائے۔شہر سے سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ تعالیٰ کو اور مولوی محمد علی صاحب اور بعض اور ہم خیال آدمیوں کو انہوں نے ساتھ لیا اور مزار سید نا اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر جا کر دُعا کی کچھ دیر ادھر اُدھر کی باتوں کے بعد شہر کو لوٹے مگر باغ کے شمال