اصحاب احمد (جلد 2) — Page 309
309 نواب صاحب کا بیان خواجہ صاحب کے متعلق یہ تمام بیان تو مجھے حضرت نواب صاحب کے سوانح حیات کے سلسلہ میں کرنا پڑا۔نواب صاحب فرماتے تھے کہ انجمن کے بنتے ہی بعض ممبران اعتراض کی باتیں حضرت نانا جان مرحوم اور حضرت اماں جان کے متعلق کرنے لگے تھے۔فرماتے تھے ان لوگوں کے دلوں میں نفاق کا بیچ پرانا تھا۔فرماتے تھے کہ مقدمہ گورداسپور کے بعد ہی میں نے خواجہ صاحب کا رویہ بدلا ہوا پایا اور خیالات خراب ہوتے محسوس کر لئے تھے۔اس سے پہلے کبھی ایسا محسوس نہ ہوا تھا۔اور دہلی کے سفر کے بعد خواجہ کمال الدین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق بہت ناگوار الفاظ استعمال کئے۔اور لنگر کے اخراجات کے متعلق بھی یہ لوگ اعتراض کر دیتے تھے۔فرماتے تھے کہ دہلی سے واپس آکر خواجہ صاحب نے کہا کہ اس شخص نے ہمیں وہاں بہت ذلیل کیا۔گویا حضور کے متعلق ” اس شخص کا لفظ استعمال کیا۔یہ اتنا سخت لفظ انہوں نے محض خادمات کے کام کے لئے باہر مردانہ میں چلے جانے وغیرہ چھوٹی باتوں پر مُنہ سے نکال دیا تھا۔مرزا خدا بخش صاحب کی بیوی حضرت اماں جان کی حد سے زیادہ نقل کرتی تھی اور مرزا صاحب نواب صاحب سے کہتے کہ میرا خرج پورا نہیں ہوتا میں کیا کروں میری بیوی اماں جان کو جو کپڑے پہنے دیکھتی ہے وہی پہننے پر اصرار کرتی ہے؟ حالانکہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی دونوں بیویاں وہاں رہتی تھیں ان پر کوئی اثر نہیں تھا۔ایک دفعہ حضور سے ذکر کیا گیا کہ ایک غیر احمدی عورت کہتی ہے کہ حضور بادام ، انڈے وغیرہ اچھی خوراک کھاتے ہیں تو حضور نے بہت غصہ سے فرمایا کہ کیا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی نعمتیں اس کے پیاروں کے لئے نہیں ہیں ان لوگوں کے لئے ہیں؟ نواب صاحب فرماتے تھے کہ جب خواجہ صاحب نے سفر دہلی کے متعلق ان الفاظ میں اعتراض کیا تو میں کانپ اُٹھا اور قیام انجمن کے بعد میں نے محسوس کر لیا تھا کہ انجمن کی وجہ سے چونکہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں کام آ گیا ہے اس لئے اور تکبر پیدا ہو گیا (ن ) نیز فرماتے تھے کہ اماں جان سے ان لوگوں کو جو بعد میں کٹ گئے کافی نقار معلوم ہوتا تھا۔جو ان کی باتوں سے ظاہر ہو جا تا تھا۔اگر لباس یا کوئی زیور بن گیا اس کا ذکر کر کے علاوہ ازیں حضرت اقدس کے حضرت اماں جان کی دلداری کرنے اور خیال رکھنے پر بھی اعتراض کے رنگ میں بات کر دیتے تھے۔حالانکہ ہم لوگ بھی گھر میں رہتے اور دیکھتے تھے کہ بجز صفائی اور شریفانہ۔حسب حیثیت خوش پوشی کے کوئی تکلف نہ تھا کوئی قابل اعتراض اسراف کسی لباس اور زیور وغیرہ میں زیادتی یا انہماک ہم نے نہ تو دیکھا نہ سُنا بلکہ ساری معاشرت میں سادگی ہی تھی۔اکثر یہ باتیں عورتوں سے چلتی تھیں۔جو اپنے خاوندوں سے کہتی تھیں کہ بیوی