اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 311 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 311

311 مشرقی کونہ پر پہنچ کر خواجہ صاحب نے مغربی جانب رخ کر لیا اور ادھر اُدھر ٹہلنے لگے۔ٹہلتے ٹہلتے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو مخاطب کر کے بولے: میاں ہم سے ایک غلطی ہو گئی ہے جس کا تدارک اب سوائے اس کے کچھ نظر نہیں آتا کہ ہم کسی ڈھنگ سے خلیفہ کے اختیارات کو محدود کر دیں وہ بیعت لے لیا کریں۔نماز پڑھا دیا کریں۔خطبہ نکاح پڑھ کر ایجاب و قبول اور اعلان نکاح فرما دیا کریں یا جنازہ پڑھ دیا کریں۔بس۔☆" حضرت صاحبزادہ صاحب نے اس امر کوسختی سے رڈ کیا اور کہا کہ خواجہ صاحب ! ہم کون ہیں جو خلیفہ کے اختیارات کی تقسیم کریں۔خلیفہ بن جانے کے بعد وہ حاکم ہیں نہ کہ ہم۔اب ہم کون ہیں جو ان کے اختیارات میں دخل دیں یا ان کو محدود کریں؟ اس پر خواجہ صاحب نے مولوی محمد علی صاحب کو جا کر کہا کہ ”میاں سے تو نا اُمید ہو جاؤ۔وہ تو اب ہمارے ہاتھ سے گیا۔۱۳ / جنوری ۱۹۰۹ ء کا معرکتہ الآراء دن اور حضرت خلیفہ اول کے عزل کی کوشش جلسه سالانه ۱۹۰۸ء پر اس گروہ کے سرکردہ اصحاب نے اپنی تقریروں کے ذریعہ یہ امر جماعت کے ذہن نشین کرانا چاہا کہ صدرانجمن ہی خدا کے مامور کی مقرر کردہ خلیفہ اور جانشین ہے۔مکرم عرفانی صاحب کبیر فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ آپ بھی تقریر کریں اور میں نے نظام قومی پر لیکچر لکھا۔* نواب صاحب کے مکان پر خواجہ صاحب نے مجھے بلایا اور کہا کہ اپنی تقریر مجھے دکھا دو۔میں نے کہا آپ لوگوں نے اپنی تقریریں مجھے دکھائی تھیں ؟ جو میں صحیح سمجھتا ہوں بیان کروں گا۔ان کو خطرہ تھا کہ میری تقریر ان کی مساعی پر پانی پھیر دیگی۔بہت رد و قدح ہوئی خود جناب محمد علی صاحب بھی موجود تھے۔بالآخر میں نے کہا خواجہ صاحب الوصیت کو پڑھو۔حضرت صاحب نے جن لوگوں کے متعلق الوصیت میں فرمایا ہے: ا۔انجمن کے تمام ممبران ایسے ہوں گے جو سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوں اور مکرم عرفانی صاحب کبیر فرماتے ہیں ” حضرت خلیفہ اول کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کا دوسرا مصرعہ شاید وہ بھول گئے کہ یہ کام کیا کرے اور کھایا بھی گھر سے کرے۔چونکہ حضرت خلیفہ امسیح اول اپنی ضروریات کیلئے انجمن سے کچھ نہ لیتے تھے اسلئے آپ نے اظہار نا راضگی کو اسطرح پر قومی کر دیا۔“ (مؤلف) ہ و الحکم جوبلی نمبر ۲۹ نیز اس گفتگو کا ذکر آئینہ صداقت ۲۷اور ۱۲۸ پر یہی ہے۔* یہ چھتیں صفحات کا لیکچر ۲۸ دسمبر ۱۹۰۸ء کو ہوا تھا اور اسی نام سے ۲۸ دسمبر کو ہی چھپ گیا تھا۔(مؤلف)