اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 304 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 304

304 کا افسر ہے وہ بھی اسی سے کام چلاتا ہے۔وہ چیز اس طرح سے ہے جیسا کہ خرگوش ہوتا ہے۔بادامی رنگ۔اس کے آگے ایک بڑی نالی لگی ہوئی ہے اور نالی کے آگے ایک قلم لگا ہوا ہے۔اس نالی کے اندر ہوا بھر جاتی ہے جس سے وہ قلم بغیر محنت کے بہ آسانی چلنے لگتا ہے۔میں نے کہا کہ میں نے تو یہ قلم نہیں منگوایا۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ مولوی محمد علی صاحب نے منگوایا ہو گا۔میں نے کہا اچھا میں مولوی صاحب کو دے دوں گا۔ایسا ہی جناب خواجہ کمال الدین صاحب کی جماعت سے دُوری اور حملہ آور ہونے کے متعلق حضور نے ایک رؤیا کا ذکر کیا۔اگر چہ یہ رویا شائع نہیں ہوا مگر بہت سے لوگ اس کے گواہ ہیں اور حضرت مولانا مولوی بقیہ حاشیہ : - دی ہے اور میں شاید اس صدمہ سے جانبر نہ ہوسکوں۔سو بعینہ وہی ہوا۔اس تعلق میں مجھے بھی اپنا ایک رؤیا یاد آیا۔غالباً ۱۹۱۴ء میں ہی میں نے دیکھا تھا کہ مولوی صاحب نے اپنے سر پر روٹیوں ( کا ) دکھا رکھا ہوا ہے اور اس وقت میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے کہ فیــضــلَـبُ چونکہ ظاہری اور معروف صلیب تو اب ختم ہو چکی ہے اور مولوی صاحب کے متعلق اسے قبول بھی نہیں کرتی اس لئے اس کے معنی استعارہ کے رنگ میں ہی ہو سکتے ہیں اور وہ یہی کہ مولوی صاحب کسی معاملہ کے تعلق طبیعت میں گویا مصلوب ہو جائیں گے یعنی ان کی کمر ٹوٹ جائے گی۔کیونکہ مصلوب کے معنی کمر کے ٹوٹنے کے بھی ہیں اور ٹرسٹ والے معاملہ میں بعینہ یہی صورت پیدا ہوئی۔بہر حال افسوس ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک پرانے صحابی کو یہ حالت پیش آئے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ روحانی کمال ہے کہ آپ کی صحبت کے طفیل مولوی صاحب کو بھی ( جو اپنے بعض معتقدات چھوڑ چکے تھے ) ظاہراً ساری عمر دینی مشغلہ کا انہاک رہا۔نبوت اور خلافت میں صداقت کا رشتہ ترک کر دینے کے باوجود ان کے اندر حضرت مسیح موعود کی صحبت کے اثر کے ماتحت دینی کام کا جذبہ اس قدر راسخ ہو چکا تھا۔کہ عملاً ساری عمر میں اسی کے لئے وقف رہے۔دوستوں کو یہ خبر پہنچا دی جائے۔اب اُمید نہیں کہ ان کے غیر مبائعین میں دینی خدمت اور دینی تنظیم کا ظاہری خاکہ بھی قائم رہے اور اگر قائم بھی ہوا تو غالباًا جلد مٹ جائیگا کیونکہ تمزیق کے آثارا اپنے پورے زور پر ہیں۔فقط والسلام خاکسار مرزا بشیر احمد !!