اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 305 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 305

305 سرور شاہ صاحب نے اپنے رسالہ کشف الاختلاف میں اس کا ذکر کیا اور کسی نے اس کی تردید نہیں کی اور برکات خلافت میں شائع ہوا اور کسی کو انکار کی جرات نہ ہوئی۔آپ نے فرمایا : میں نے دیکھا کہ خواجہ پاگل ہو گیا ہے اور مجھ پر اور مولوی ( نور الدین) صاحب پر مسجد کی چھت پر چڑھ کر حملہ کرنا چاہتا ہے۔میں نے کسی کو کہا کہ اس کو مسجد سے باہر نکال دو مگر وہ خود ہی سڑھیوں سے نیچے اتر گیا۔صدرانجمن کے یہی اکابر تمام کاروبار کو اپنے ہاتھ میں رکھتے تھے اور رکھنا چاہتے تھے۔ان کے نزدیک خلافت کا قیام ان کے مقام اور مرتبہ کو باقی نہیں رکھ سکتا تھا۔یہ ان لوگوں کی غلط فہمی تھی ساری سعادت اور عظمت تو خلافت کی اطاعت سے وابستہ تھی۔بہر حال انہوں نے کچھ ایسا ہی سمجھا۔لیڈر یہی تھے باقی بعض احباب کے مقتدی تھے۔اس لئے خصوصیت سے مندرجہ بالا کشوف میں ان کا ذکر آیا۔اصل یہ ہے کہ ایک قسم کی سو ظنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آخری ایام میں شروع کی گئی ا۔چنانچہ لدھیانہ کے ایک صاحب بابو محمد صاحب نے حضرت اقدس کو ایک خط لکھا جس میں آپ پر اسراف وغیرہ کا الزام تھا۔اس کے جواب میں آپ نے ایک مبسوط خط لکھا جو الحکم میں انہی ایام میں شائع ہوا۔قبل اس کے کہ میں اس کا ایک حصہ درج کروں ایک بات صاف کر دینا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ایک عجیب معاملہ ہوا ہے بعض لوگ جنہوں نے ابتدا میں بڑے اخلاص کا اظہار کیا اور آپ کی تائید کے لئے ہر قسم کی قربانی کی مگر ان کے اعمال میں معلوم ہوتا ہے کہ کو ئی مخفی نقص تھا جو بالآخران کے اندرونی گند کے اظہار کا باعث ہو گیا۔مثلاً مولوی محمد حسین بٹالوی۔اس نے براہین احمدیہ کی اشاعت کے وقت اس پر جور یو یولکھا وہ اس کا ایک شاہکار ہے۔میر عباس علی صاحب کی خدمات اور اخلاص ضرب المثل تھا۔ڈاکٹر عبدالحکیم خاں بھی ابتداء ایک جذ بہ اخلاص لیکر آیا۔منشی الہی بخش۔حافظ محمد یوسف اور منشی عبدالحق صاحبان یہ بڑے فدائی تھے اور اپنے رنگ میں دیندار تھے مگر پنہانی معصیت ایسی معلوم ہوتی ہے کہ آخر وہ کٹ گئے۔بابو محمد صاحب سلسلہ کی مالی امداد میں پیش پیش تھے۔مگر معلوم ہوتا ہے کوئی مخفی کبر تھا جس نے آخر ان سے یہ حرکت کروائی کہ معترضانہ خط لکھا۔پس اس سے تعجب نہیں کرنا چاہئے۔دراصل ربانی سلسلے کسی کے مفہوم از رساله کشف الاختلاف صفحه ۱۲ و برکات خلافت صفحه ۳۱ مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی درویش فرماتے ہیں کہ حضور کی یہ رویا حضور کے عہد مبارک میں ہی شائع اور متعارف تھی۔مجھے خواب اچھی طرح یاد نہیں۔