اصحاب احمد (جلد 2) — Page 102
102 اور ۷ اگست ۱۹۰۰ء کو تحریر فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ اس کے عوض میں اپنے بے انتہا اور نہ معلوم کرم اور فضل آپ پر کرے اور لباس التقویٰ سے کامل طور سے اولیاء اور صلحا کے رنگ سے مشرف فرمادے۔ایک بڑی خواہش ہے کہ آپ فرصت پاکر تشریف لاویں کیونکہ اب تک یک سوئی اور مخاطبت کی صحبت کا آپ کو اتفاق نہیں ہوا۔نواب صاحب ۱۳ نومبر ۱۹۰۱ء کو روانہ ہو کر اگلے روز قادیان پہنچے اور آخر ماہ تک آپ کا قیام قادیان میں رہا۔پھر آپ کچھ دنوں کے لئے چلے گئے بعد ازاں دسمبر کے اواخر میں دوبارہ قادیان تشریف لائے۔ہجرت کے محرکات حضرت نواب صاحب کی ہجرت کی راہ میں متعد د موانع تھے۔ظاہری دولت وحشمت ،مال ومنال، عز و جاہ ، اقارب، جاگیریں اور وطن جہاں آپ کی ایک طرح کی حکومت تھی۔قادیان آنا ایک حد تک ان سب علائق دنیویہ سے انقطاع چاہتا تھا اور یہاں آکر قیام کرنے سے ان میں کمی آتی تھی۔سو اگر قادیان میں لانے کا باعث کوئی باطنی اور روحانی کشش نہ تھی اور کون سی ظاہری جاذبیت تھی کہ جس نے ان سے سب کچھ چھڑا کے دو چھوٹے چھوٹے کمروں میں جن کے قریب ایک دو اور کچھ کمرے بنوا لئے تھے رہنے پر آمادہ کر لیا اور آپ کے دل نے اپنے محلات چھوڑ کر اس تنگ جگہ کی بود و باش کو اپنے لئے باعث صدعز وفخر جانا اور ہر طرح اطمینان پایا۔اسوقت قادیان کی کیا حالت تھی پانچ سال بعد کی ہی حالت سے اندازہ لگا لیجئے جب کہ مئی ۱۹۰۵ء میں مولانا ابوالکلام آزاد ( وزیر تعلیم بھارت) کے بھائی مولانا ابوالنصر آہ قادیان آئے آپ تحریر کرتے ہیں: آپ کی ڈائری ۰۱-۱۱-۱۳ سے ۰۱-۱۱-۲۶ تک ملی ہے اس کے بعد ۰۲-۱-ا سے شروع ہوتی ہے۔اس سفر میں ساتھ آنے والوں میں مکرم میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب کا نام بھی درج ہے۔میاں صاحب موصوف ذکر کرتے ہیں کہ آمین کے وقت میں حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے ساتھ چوکی پر کھڑا ہوا تھا۔سیدہ موصوفہ اور آپ کے بھائیوں کی آمین ۰۱-۱۱-۳۰ کو ہوئی تھی۔اور سیدہ موصوفہ تصدیق فرماتی ہیں کہ میاں صاحب موصوف کا آمین کے وقت موجود ہونا مجھے بھی یاد ہے گویا کہ نواب صاحب کا قیام اس تاریخ تک ہونا یقینی ہے۔قادیان سے جانے کی تاریخ کا کوئی ریکارڈ نہیں۔