اصحاب احمد (جلد 2) — Page 101
101 ہے کہ اب آپ تلافی کریں گے۔استغفار۔لاحول اور نماز میں دعا سے زیادہ کام لیں گے۔رمضان شریف زیادہ موقعہ دیگا۔سنو بھائی ! جو عذر آپ نے بیان فرمائے ہیں وہ خود ہی کیا ہیں۔بحمد اللہ ہماری حالت بھی بہت امیروں ، دولتمندوں ، آسودوں سے کم نہیں اور علم وفہم اور اس پر مختلف مجلسوں مختلف بلاد اور مختلف باتوں کے سنے کا موقعہ ہم کو بہ نسبت امراء کے زیادہ تر حاصل ہے۔پھر آپ جانتے ہیں ان دنوں مجھے علاج معالجہ کے واسطے زیادہ فرصت نکالنی مناسب تھی۔مگر پھر بھی مرزا جی کی صحبت کو کتنا مقدم کر لیا۔آپ کی ضرورتیں مجھ سے زیادہ نہیں مگر یہ فقرہ تفسیر طلب ہے تو میں تفسیر کو حاضر ہوں۔“ حضرت نواب صاحب کی ڈائری سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۸ جنوری ۹۸ ء کو آپ کوٹلہ سے روانہ ہو کر اگلے روز قادیان - پہنچے ۲۸ جنوری کی ڈائری سے بھی آپ کے قادیان میں ہونے کا علم ہوتا ہے اور گوابتداء جولائی ۹۸ء میں بھی آپ قادیان آئے تھے * پھر بھی حضور نے ۲۱ / جولائی ۱۹۸ء کو آپ کو تحریر فرمایا کہ: ان دنوں التزام نماز ضروری ہے۔مجھے تو یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ دن دنیا کے لئے بڑی بڑی مصیبتوں اور موت اور دُکھ کے دن ہیں اب بہر حال متنبہ ہونا چاہیئے۔عمر کا کچھ بھی اعتبار نہیں۔میں نے خط کے پڑھنے کے بعد آپ کے لئے بہت دعا کی ہے اور امید ہے کہ خدا تعالیٰ قبول فرمائے گا مجھے اس بات کا خیال ہے کہ اس شور قیامت کے وقت جس کی مجھے الہام الہی سے خبر ملی ہے حتی الوسع اپنے عزیز دوست قادیان میں ہوں مگر سب بات خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔حضور ۲۹ جنوری ۱۹۰۰ء کو تحریر فرماتے ہیں کہ : ۸۲ 66 اصل بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی عمر دراز کرے اور کامل طور پر قوت ایمان عطا فرمادے اور ہر طرح سے امن میں رکھے تب اس کے باقی ہموم وعموم کچھ چیز نہیں۔میرا دل بہت چاہتا ہے کہ آپ دو تین ماہ تک میرے پاس رہیں نہ معلوم کہ یہ موقعہ کب ہاتھ آئے گا۔۱۸۳ فروری ۹۸ء میں حضرت نواب صاحب کے قادیان آنے کا علم الحکم پر چہ ۹۸-۳-۱۳ (صفحہ ۲ کالم ۱) سے اور جولائی میں آنے کا علم حضرت اقدس علیہ السلام کے ایک غیر مطبوعہ مکتوب مورخہ ۴ جولائی ۹۸ ء سے ہوتا ہے جس میں حضرت اقدس اگلے روز قادیان سے جانے کی اجازت نواب صاحب کو مرحمت فرماتے ہیں۔