اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 103 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 103

103 نواب صاحب مالیر کوٹلہ کی شاندار اور بلند عمارت تمام بستی میں صرف ایک ہی عمارت ہے۔راستے کچے اور نا ہموار ہیں۔بالخصوص وہ سڑک جو بٹالہ سے قادیان تک آئی ہے اپنی نوعیت میں سب پر فوق لے گئی ہے۔آتے ہوئے یکہ میں مجھے تکلیف ہوئی تھی۔نواب صاحب کے رتھ نے کوٹتے وقت اس میں نصف کی تخفیف کر دی۔اگر مرزا صاحب کی ملاقات کا اشتیاق میرے دل میں موجزن نہ ہوتا تو شاید آٹھ میل تو کیا آٹھ قدم بھی آگے میں نہ بڑھ سکتا۔“ ۱۸۵ مولا نا موصوف کے بیان سے اس وقت کی حالت ظاہر ہے جن دوستوں نے مذکورہ مکان حضرت نواب صاحب کا دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ وہ معمولی حیثیت کا ہے جب وہ سارے قادیان میں اس وقت ایک ہی شاندار عمارت سمجھا جاتا تھا تو اس وقت کی قادیان کی جو حالت ہوگی ظاہر ہے۔سو ہجرت کے محرکات کیا تھے؟ دنیا سے روگردانی۔بے پناہ مذہبی جذ بہ اور صحبت صالحین سے استفادہ کا جوش * یہ حقیقت ہے کہ دل حضرت نواب صاحب میں جو دین کے لئے جذبہ تھا وہ حضرت مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ کے ذیل کے مکتوب سے عیاں ہوتا ہے۔تحریر فرماتے ہیں: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔یہ وساوس ہیں اور سالک کو ضرور پیش آتے ہیں۔ان میں تجدید نکاح کی ضرورت نہیں اور ہرگز نہیں۔آپ ذرہ بھی توجہ نہ فرما دیں۔یہ کیا وساوس ہیں کیا اچھا ہوتا اگر آپ گا ہے گا ہے قادیان آجایا کرتے۔کوئی بھی تکلیف آپ کو یہاں انشاء اللہ تعالیٰ نہ ہوتی نہ غسل خانہ کی نہ پاخانہ کی اور میں انشاء اللہ تعالیٰ یہ چیزیں تیار کر دونگا۔باقی قصہ ایسا ہے کہ جلد طے ہوسکتا ہے۔یہ شیطانی وساوس ہیں ان کا کیا بقا ہے۔ثبوت اشیاء کا اس طرح بھی ہوتا ہے کہ راست باز اور بکثرت راست باز شہادت دیں اور ان کی شہادت میں کوئی کارستانی نہ ہو۔نواب ! میں راستباز ہوں اور بڑوں کسی طمع و غرض کے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی آواز اور کلام میں نے خود سنی ہے۔میرے دوستوں میں مرزا خدا بخش بھی ہیں ان کو السلام علیکم عرض کر دیں اور یاد دلا دیں کہ القول المستحسن میاں یوسف علی خاں صاحب کو دیدی پہنچادی یا نہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کے کنبہ کو صحت و عافیت بخشے۔نورالدین ۹؍ دسمبر ۹۷ از قادیان