اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 50 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 50

50 گلینڈ ترک شیعیت کب اور کیونکر کی اس میں کوئی شک نہیں کہ نواب صاحب نے شیعہ رہتے ہوئے بیعت کی تھی چنانچہ ازالہ اوہام والے بیان میں اس کا ذکر ہے۔دوسری جگہ فرماتے ہیں: حضرت نے لکھا کہ مجھے کو اس طرح آپ کا پوشیدہ رکھنا نا مناسب معلوم ہوتا ہے میں آپ کے حالات ازالہ اوہام میں درج کرنا چاہتا ہوں۔آپ اپنے حالات لکھ کر بھیج دیں۔چنانچہ میں نے حالات لکھ دیئے اور باوجود بیعت اور تعلق حضرت اقدس میں ۱۸۹۳ء تک شیعہ ہی کہلاتا رہا۔نماز وغیرہ بھی سب ان کے ساتھ ہی ادا کرتا تھا۔بلکہ یہاں قادیان اس اثناء میں آیا تو نماز علیحدہ ہی پڑھتا تھا ۱۸۹۳ء سے میں نے شیعیت کو ترک کیا ہے۔“ اس خصوص میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے حضرت مولوی صاحب ( خلیفہ اول) کے نام مکتوب مورخہ ۱۲ فروری ۱۸۹۱ء میں یوں ذکر آتا ہے: چند روز سے نواب محمد علی خاں صاحب رئیس کو ٹلہ قادیان میں آئے ہوئے ہیں۔جو ان صالح الخیال مستقل آدمی ہے۔انٹرنس تک تحصیل انگریزی بھی ہے۔میرے رسالوں کو دیکھنے سے کچھ شک و شبہ نہیں کیا بلکہ قوت ایمانی میں ترقی کی حالانکہ وہ دراصل شیعہ مذہب ہیں مگر شیعوں کے تمام فضول اور ناجائز اقوال سے دستبردار ہو گئے ہیں۔صحابہ کی نسبت اعتقاد نیک رکھتے ہیں شاید دو روز تک اور اسی جگہ ٹھہریں۔مرزا خدا بخش صاحب ان کے ساتھ ہیں۔الحمد للہ اس شخص کو خوب مستقل پایا اور دلیر طبع آدمی ہے۔۴۳ شیعیت کیونکر ترک کی اس بارہ میں نواب صاحب تحریر فرماتے ہیں: ۱۸۹۳ء میں میں نے خاص طور پر سے شیعیت کی بابت تحقیقات کی اور شیعیت کوترک کر دیا۔“ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کا مکتوب اور نواب صاحب کو قادیان آنے کی تحریک ۱۸۹۲ء میں نواب صاحب نے حضرت کی خدمت اقدس میں ایک خط تحریر کیا جس میں ذیل کی عبارت