اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 49 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 49

49 49 لئے تو بہ کی ہے مجھ کو آپ کے اخلاق اور طرز معاشرت سے کافی اطمینان ہے کہ آپ ایک سچے مسجد داور دنیا کیلئے رحمت ہیں۔۔(الف) ۷۹۰۷۷۸۹ اس کا ابتدائی حصہ جو خاندانی حالات پر مشتمل ہے پہلے ایک جگہ نقل ہو چکا ہے۔(ب) القول الفصل سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے نواب صاحب نے دریافت کیا آیا ایک شیعہ حضور کی بیعت کر سکتا ہے۔پھر بمقام لدھیانہ ملاقات کی جس کے بعد بیعت کا خط لکھ دیا۔چنانچہ مرقوم ہے: میں نے پھر حضرت کو لکھا کہ کیا ایک شیعہ آپ کی بیعت کر سکتا ہے۔تو آپ نے تحریر فرمایا کہ ہاں۔چنانچہ پھر بمقام لدھیانہ ستمبر یا اکتوبر ۱۸۹۰ء میں حضرت سے ملا۔اور اس ملاقات کے بعد میں نے حضرت صاحب کو بیعت کا خط لکھ دیا۔مگر ساتھ ہی لکھا کہ اس کا اظہار سر دست نہ ہو۔“ لیکن از اہالہ اوہام کا حوالہ بدیں وجہ زیادہ قرین صحت معلوم ہوتا ہے کہ قریب ترین زمانہ میں جب کہ ابھی یہ امر بالکل تازہ تھا قلمبند کر لیا گیا تھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیعہ ہوتے ہوئے بیعت میں داخل ہونے کے متعلق مستفسر ا نہ خط نواب صاحب نے لدھیانہ کی ملاقات کے بعد تحریر کیا تھا اس کی تائید نواب صاحب کے ذیل کے بیان سے بھی ہوتی ہے : غالباً ستمبر ۱۸۹۰ء میں میں بمقام لدھیانہ حضرت موصوف سے ملا اور چند معمولی باتیں ہوئیں وہاں سے واپسی پر میں نے حضرت کو لکھا کہ میں شیعہ ہوں گو اس وقت ایک طرح بفضلہ (لفظ تفضلی معلوم ہوتا ہے۔ناقل ) شیعہ ہوں یعنی حضرت علیؓ کو دوسرے خلفاء پر فضیلت دیتا ہوں کیا آپ ایسی حالت میں میری بیعت لے سکتے ہیں یا نہیں؟ آپ نے لکھا کہ ہاں ایسی حالت میں آپ بیعت کر سکتے ہیں۔باقی اگر ہم ان خدمات کی قدر نہ کریں جو خلفاء راشدین نے کیں تو ہمیں یہ بھی معلوم نہیں ہوسکتا کہ یہ قرآن وہی قرآن ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا کیونکہ ان کے ذریعہ قرآن و اسلام و حدیث و اعمال ہم تک پہنچے ہیں چنانچہ میں نے غالباً ستمبر یا اکتوبر ۱۸۹۰ء میں بیعت حضرت کی کر لی۔ابتدائے خط وکتابت ( میں ) حضرت کو میں نے ایک خط میں لکھا تھا کہ میں شیعہ ہوں اور شیعوں کے ہاں ولایت ختم ہو گئی ہے اس لئے جب ہم کسی کو ولی نہیں مانتے تو بیعت کس طرح کر سکتے ہیں۔تو آپ نے لکھا کہ ہم جو ہر نماز میں اهدنا الصراط المستقيم صراط الذین انعمت علیھم کی دعا مانگتے ہیں۔اس کا کیا فائدہ؟ کیونکہ مے تو پہلے پی گئے اب تو ڈر درہ گیا۔تو کیا ہم مٹی کھانے کیلئے رہ گئے؟ اور جب ہمیں انعام ملنا نہیں تو یہ دعا عبث ہے بلکہ اصل واقعہ یہ ہے کہ انعامات کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔“ یہ نواب صاحب کی روایت کے اصل الفاظ ہیں جو تغیر الفاظ الفضل مورخہ۳۸-۶-۱۴ میں شائع ہو چکے ہیں