اصحاب احمد (جلد 2) — Page 51
51 لکھ کر بعض سوالات کئے ہیں: جب سے کہ دعوئی مثیل مسیح کی اشاعت ہوئی ہے ہر ایک آدمی ایک عجیب خلجان میں ہو رہا ہے گو بعض خواص کی یہ حالت ہو کہ ان کو کوئی شک پیدا نہ ہوا ہو۔بندہ جھی سے شش و پنج میں ہے۔کبھی آپ کا دعویٰ ٹھیک معلوم ہوتا ہے اور کبھی تذبذب کی حالت ہو جاتی ہے گویا قبض اور بسط کی سی کفیت ہے اب قال وقال بہت ہو چکی اپنی تو اس سے اطمینان نہیں ہوتی کیونکہ مخالف اور موافق باتوں نے دل کی عجب کیفیت کردی ہے بلکہ بعض اوقات اسلام کے سچے ہونے میں شبہ ہو جاتا ہے۔وجہ اس کی یہ ہے کہ ایک طرف خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ جس نے ہماری راہ میں کوشش کی ہم اس کو اپنا راستہ دکھاتے ہیں۔اور دوسری طرف یہ حیرانی ہے کہ وہ وعدہ پورا نہیں ہوتا۔گو کسی نے استخارہ نہ کیا ہو لیکن سینکڑوں آدمی دل و جان سے کوشاں ہیں کہ ہم کو سیدھا راستہ معلوم ہو جاوے اور سچائی ظاہر ہو۔“ حضوڑ اس خط کے متعلق تحریر فرماتے ہیں ذیل میں ہم خط محجی نواب سردار محمد علی خاں صاحب کا لکھتے ہیں۔یہ خط نواب صاحب موصوف نے کسی اور طالب حق کی تحریک سے لکھا ہے۔ورنہ خودنواب صاحب اس عاجز سے ایک خاص تعلق اخلاص و محبت رکھتے ہیں اور اس سلسلہ کے حامی 66 بدل و جان ہیں۔“ بعد ازاں حضور اپنے جواب کے متعلق نواب صاحب کو تحریر فرماتے ہیں: اس خط کو کم سے کم تین مرتبہ غور سے پڑھیں یہ خط اگر چہ بظاہر آپ کے نام ہے لیکن اسکی بہت سی عبارتیں دوسروں کے اوہام دور کرنے کے لئے ہیں۔گو بظا ہر آپ ہی مخاطب ہیں۔۴۷ سو چونکہ بعض باتیں نواب صاحب سے تعلق رکھتی ہیں اس لئے ستائیس صفحات کے لمبے مکتوب میں سے بعض ضروری اقتباس درج ذیل کئے جاتے ہیں۔کہ ان سے نواب صاحب کا اخلاص اور حضور کی ان کی طرف خاص توجہ کا علم ہوتا ہے: ایک ہفتہ سے بلکہ عشرہ سے زیادہ گذر گیا کہ آں محب کا محبت نامہ پہنچا تھا چونکہ اس میں امور مستفسرہ بہت تھے اور مجھے باعث تالیف کتاب آئینہ کمالات اسلام