اصحاب احمد (جلد 2) — Page 24
24 الله حاشیہ میں جس نواب کا ذکر آتا ہے کہ اس نے کہا کہ اس ریاست سے خرید وغیرہ کی کچھ امید نہ رکھیں وغیرہ بلکہ براہین چاک کر کے واپس بھیجدی تھی۔یہ نواب صدیق حسن خان تھے۔انہیں اپنے کئے کی جو سزا ملی اور کس طرح ان کی عزت حضرت اقدس کی دعا سے سرکوبی سے بچائی گئی۔ہر احمدی کو معلوم ہے حضور نے اس کا ذکر حقیقتہ الوحی پر کیا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے واقعات کی وجہ سے حضور نے ۲۴ راکتو بر ۱۸۸۳ء کو میر عباس علی صاحب کو ایک مکتوب میں ایسے لوگوں کے پاس اشاعت براہین کے لئے جانے سے روک دیا جن کے نفس غرور اور استکبار سے بھرے ہوئے ہیں اور فرمایا کہ: آپ اس طریق کو ترک کر دیں اگر کسی دنیا دار مالدار کو کچھ کہنا ہوتو کلمہ مختصر کہیں اور آزادی سے کہیں اور صرف ایک بار پر کفایت رکھیں۔۔۔اور مناسب ہے کہ آپ یہ سلسلہ غریب مسلمانوں میں جاری رکھیں۔دوسرے لوگوں کا خیال چھوڑ دیں۔“ " لیکن باوجود اس کے خود حضور والئی مالیر کوٹلہ کو اپنے وعدہ کی یاد دہانی کراتے رہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ان کو طبقہ امراء میں سے اس قسم کا فرد نہ خیال فرماتے تھے کہ جس میں غرور واستکبار وغیر ہ پایا جا تا ہو اور اس سے یہ بھی مستنبط ہوتا ہے کہ بعد کی خط و کتابت میں اسی لئے ہی اس وعدہ کے عدم ایفاء یا وعدہ کی یاددہانی کا ذکر نہیں کہ وہ پورا ہو چکا ہوگا اور یہ وعدہ سابقہ سو روپیہ کے علاوہ تھا اور سابقہ روپیہ جیسا کہ حضوڑ نے تحریر فرمایا ہے ادا ہو چکا تھا و حضور کی مالیر کوٹلہ میں تشریف آوری ۱۸۸۴ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پہلی بار لدھیانہ بمعنیت مولوی جان محمد صاحب حافظ حضور کی طرف سے نواب ابراہیم علی خاں صاحب کے وعدہ کی یاد دہانی ایک دفعہ امئی ۱۸۸۴ء کو ہوئی جبکہ آپ نے نواب علی محمد خاں صاحب آف جھجھر کو تحریر فرمایا: نواب صاحب مالیر کوٹلہ کا اب تک روپیہ نہیں آیا۔مناسب ہے کہ آں مخدوم تاکیدی طور پر ان کو یاد دلائیں۔“ اسی طرح حضور نے میر عباس علی صاحب کو ۲۶ رمئی ۱۸۸۴ء کو تحریر فرمایا:۔نواب علی محمد خاں صاحب کی ارادت اور شب در روز کی توجہ اور اخلاص قابل تعریف ہے خدا تعالیٰ ان کو ہر ایک غم سے خلاصی بخشے اور حسن عاقبت عطا فرما دے۔آپ نواب صاحب کو یہ بھی اطلاع دیدیں کہ مالیر کوٹلہ سے نواب ابراہیم علی خاں صاحب