اصحاب احمد (جلد 2) — Page 25
25 25 حامد علی صاحب اور لالہ ملا وامل صاحب تشریف لے گئے کہ وہاں سے والدہ نواب ابراہیم علی خاں صاحب کی درخواست پر حضور مالیر کوٹلہ گئے۔میر عنایت علی صاحب لد بیانوی رضی اللہ عنہ جوسفر مالیر کوٹلہ میں حضور کے رفقاء میں سے تھے بیان کرتے ہیں: ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مالیر کوٹلہ بھی تشریف لے گئے تھے قریب آٹھ دس آدمی حضوڑ کے ہمراہ تھے۔اس وقت ابھی مالیر کوٹلہ کی ریل جاری نہیں ہوئی تھی۔میں بھی حضور کے ہمرکاب تھا۔حضرت صاحب نے یہ سفر اس لئے اختیار کیا تھا کہ بیگم صاحبہ یعنی والدہ نواب ابراہیم علی خاں صاحب نے اپنے اہلکاروں کو لدھیانہ بھیج کر حضرت صاحب کو بلایا تھا کہ حضور مالیر کوٹلہ تشریف لا کر میرے لڑکے کو دیکھیں اور دُعا فرما دیں۔کیونکہ نواب ابراہیم علی خاں صاحب کو عرصہ سے خلل دماغ کا عارضہ ہو گیا تھا۔حضرت صاحب لدھیانہ سے دن کے دس گیارہ بجے قاضی خواجہ علی صاحب کی شکرم میں بیٹھ کر تین بجے کے قریب مالیر کوٹلہ پہنچے اور ریاست کے مہمان ہوئے۔جب صبح ہوئی تو بیگم صاحبہ نے اپنے اہلکاروں کو حکم دیا کہ حضرت صاحب کے لئے سواریاں لے جائیں تا کہ آپ باغ میں جا کر نواب صاحب کو دیکھیں مگر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہمیں سواری کی ضرورت نہیں ہم پیدل ہی چلیں گے۔چنانچہ آپ پیدل ہی گئے۔اسوقت ایک بڑا ہجوم لوگوں کا آپ کے ساتھ تھا۔جب آپ باغ میں پہنچے تو معہ اپنے ساتھیوں کے ٹھہر گئے نواب صاحب کوٹھی سے باہر آئے اور پہلی دفعہ حضرت صاحب کو دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے۔لیکن پھر آگے بڑھ کر آئے اور حضرت صاحب سے سلام علیکم کیا۔اور کہا کہ کیا براہین کا چوتھا حصہ چھپ گیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ابھی تو نہیں چھپا مگر انشاء اللہ عنقریب چھپ۔بقیہ حاشیہ: والئی مالیر کوٹلہ کے ایک سررشتہ دار کا خط آیا ہے کہ وہ مبلغ پچاس روپیہ بطور امداد بھیجیں گے مگر ابھی آئے نہیں۔یہ روپیہ انشاء اللہ پیٹالہ میں عبدالحق صاحب کو بھیجا * جاوے گا اور پھر بعد اس کے ان کا قرضہ دوسورو پیہ باقی رہ جاوے گا۔لالہ ملا وامل صاحب جو حضرت اقدس کے دعوی سے بہت قبل کے ملاقاتی اور جلیس تھے اور بہتر سفروں میں رفیق سفر رہے تھے اور وہ حضور کی متعدد پیشگوئیوں کے گواہ تھے اور اس سفر کے رفقاء میں سے صرف وہی زندہ تھے افسوس کہ ۵۱-۹-۲۹ کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ان کی وفات کے بعد حضور کے دعویٰ سے قبل کا کوئی ملاقاتی باقی نہیں رہا۔الحکم جلد نمبر ۱۴ اپر چہ ۱۹ اپریل ۱۸۹۹ء مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر پنجم مکتوبات تو دونوں جگہ اختلاف کے باعث یہاں عبارت اور تاریخ الحکم سے نقل کی گئی ہے۔*