اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 23 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 23

23 حضور چشم پوشی۔اغماض اور عضو میں اپنی نظیر آپ تھے۔باوجود اپنی تمام وسعت قلبی کے چونکہ اس طبقہ کی طرف سے غایت درجہ اذیت قلبی پہنچی تھی۔جس کا باعث اس طبقہ کی اسلام سے شدید بیگانگی تھا حضور نے ان کا شکوہ کیا۔حضرت اقدس نے جب مالیر کوٹلہ کا سفر کیا تو نواب ابراہیم علی خاں صاحب کی علالت کے سلسلہ میں کیا۔اور آپ نے اس سفر کو محض اس لئے اختیار کیا تھا کہ نواب ابراہیم علی خاں صاحب نے براہین احمدیہ کی اشاعت میں حصہ لیا گو بحیثیت ایک خریدار کے۔اور دراصل جب ہم اس امر کو سوچیں کہ بڑی عمر میں زیادہ سنجیدگی اور متانت کی توقع ہوتی ہے اور اس وقت انسان لہو ولعب سے اکتا کر از خود بھی امور دینیہ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے لیکن اس عمر کو پہنچے ہوئے طبقہ امراء کے افراد نے جو نمونہ دکھایا وہ ظاہر وباہر ہے۔لیکن ان حالات میں چودھویں صدی میں نواب ابراہیم علی خاں صاحب ناز و نعم کے پروردہ اور اس طبقہ سے تعلق رکھنے والے ہیں جسے عام طور پر سوائے لہو و لعب کے اور کسی امر سے واسطہ نہیں ہوتا۔عمر کے لحاظ سے وہ نوخیز ہیں۔ان تمام امور کے باوجود اس نوجوانی کے عالم اور اس ماحول میں براہین احمدیہ کی ان کی طرف سے اعانت خواہ تھوڑی اور بحیثیت ایک عام خریدار کے تھی۔حضرت اقدس کی نگاہ میں قابل قدر ٹھہری کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کی فطرت شکور ہوتی ہے۔آپ نے اس کی قدر فرمائی اور نواب ابراہیم علی خان صاحب کو سلسلہ کے لٹریچر میں ایک زندگی عطا کی اور ان کی بیماری کی خبر پا کر دعا کے لئے بھی تشریف لے گئے تا کہ عیادت اور اس شکریہ کی عملی روح نمایاں ہو۔اور نواب صاحب کو بھی براہین سے اتنا شغف تھا کہ سب سے پہلی بات یہ پوچھی کہ کیا براہین کا چوتھا حصہ چھپ گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔بقیہ حاشیہ: - فیاضی کی وجہ سے بطور اعانت ۲۵ روپے بھیجے ہیں۔ہاں اسلامی امیروں میں ایسے لوگ بہت ہی کم پائے جائیں گے کہ جن کو اپنے بچے اور پاک دین کا ایک ذرہ خیال ہو۔کچھ تھوڑا عرصہ گذرا ہے کہ اس خاکسار نے ایک نواب صاحب کی خدمت میں کہ جو بہت پارسا طبع اور متقی اور فضائل علمیہ سے متصف اور قال اللہ اور قال الرسول سے بدرجہ غایت خبر رکھتے ہیں کتاب براہین حمدیہ کی اعانت کے لئے لکھا تھا۔سو اگر نواب صاحب ممدوح اس کے جواب میں یہ لکھتے کہ ہماری رائے میں کتاب ایسی عمدہ نہیں جس کے لئے کچھ مدد کی جائے تو کچھ جائے افسوس نہ تھا مگر صاحب موصوف نے پہلے تو یہ لکھا کہ پندرہ ہیں کتا بیں ضرور خریدیں گے اور پھر دوبارہ یاد دہانی پر یہ جواب آیا کہ دینی مباحثات کی کتابوں کا خریدنا یا ان میں کچھ مدد دینا خلاف منشاء گورنمنٹ انگریزی ہے اس لئے اس ریاست سے خرید وغیرہ کی کچھ امید نہ رکھیں۔سو ہم بھی نواب صاحب کو امید گاہ نہیں بناتے بلکہ امید گاہ خداوند کریم ہی ہے اور وہی کافی ہے۔“