اصحاب احمد (جلد 2) — Page 654
654 اپنا خط جو سراج الدین عیسائی کے نام انہوں نے لکھا ہے سنایا اور پھر حضرت اقدس نے بہت تقریر کی۔اقتباس بالا حضرت اقدس اور حضرت نواب صاحب کی سیرۃ اور کردار بہترین ٹکڑا ہے۔حضرت نواب صاحب میں انابت الی اللہ اور اصلاح نفس کی کیسی زبر داست خواہش پائی جاتی تھی۔اگلے رمضان میں ۱۱ دسمبر ۱۹۰۲ء کو نواب صاحب تحریر کرتے ہیں: ”ہائے افسوس رمضان کی دسویں ہو گئی اور ابھی۔۔۔۔شومئے اعمال دامنگیر ہے۔اب تک میں نیک اعمال میں نہایت کمزور ہوں۔خدا وند تعالیٰ جیسے کیسے روزوں کو قبول فرمائے اور باقی دو ملکوں میں تو فیق فرمائے کہ خاص تبدیلی مجھ میں پیدا ہو اور اس رمضان کے بعد میں اپنے میں زمین و آسمان کا فرق پاؤں۔لا توفیقی الا بالله۔لا حول ولا قوة الا بالله العلى العظيم - خدا وند تعالیٰ مجھ کو غموں سے نجات (دے) اور سوائے غم دین اور کوئی غم باقی نہ رہے۔“ پھراگلے روز تحریر فرماتے ہیں: آج میں نے ارادہ کیا ہے کہ وساوس جو بڑھتے جاتے ہیں ان کو دور پھینکدوں۔اور کوشش کروں کہ یہ ۲/۳ رمضان نہایت خوبی سے گذرے۔وما توفیقی الا بالله لا حول ولا قوة الا بالله العلى العظیم۔خداوند تعالی توفیق دے اور ایسا کرے (کہ ) اس رمضان کے اختتام پر مجھ میں نئی تبدیلی آجائے۔۱۵؍ دسمبر ۱۹۰۲ء کو تحریر فرماتے ہیں: طبیعت اسی سردی سے (لفظ پڑھا نہیں گیا۔مولف ) ہے کہ صبح مسجد تک جانے سے گھبراتی ہے۔یا اللہ مجھے کو صحت عطا فرما اور مسجد میں جانے ( کی ) توفیق عطا فرما۔اسی طرح یکم نومبر ۱۹۰۲ء کو تحریر فرماتے ہیں : ہر چند برخود نظر سے گنم روحانیت تا حال جاگزیں نہ شدہ۔مرا در یں قبض مانده است الا ماشاء الله مگر این فائدہ مرا بسیار مرا رسیده است که او مبادرت و جرات که بر گناه در مالیر کوٹلہ مرا بود ایں جا نیست۔آنجا گو کسے بزور برائے گناہ کشید دایں جا از و می کشد - الحمد للہ کہ تا این دم آن گناه با که در کوٹلہ مبتلا بودم بیک ساعتے و یک لمحے واقع نہ شدہ۔