اصحاب احمد (جلد 2) — Page 655
655 اسی طرح انابت الی اللہ کا ایک منظر ہمیں نواب صاحب کے ایک اور مکتوب میں نظر آتا ہے جو آپ نے اپنے ایک بھائی کو ۱۲ فروری ۱۹۰۸ء کو تحریر کیا۔آپ فرماتے ہیں : ”آپ نے چند روز ہوئے ایک تار بھیجا تھا کہ ہماری اپیل منظور ہوگئی اور احکامات بذریعہ کمشنر پہنچ گئے اس سے اس قدر خوشی حاصل ہوئی کہ کوئی حد نہیں اور سجدات شکر اللہ کے آگے کئے گئے۔مگر یہ ایسا خدا کا فضل ہوا ہے کہ اگر سجدے کرتے کرتے ہمارے ماتھے گھس جائیں تو بھی تھوڑے ہیں اور خاص کر آپ مبارک باد کے مستحق ہیں کیونکہ جس قدر سعی اور تکلیف آپ نے اس امر میں اٹھائی وہ بہت ہی بڑی تھی خداوند نے آپ کی سعی مشکور کی اور تکالیف کا معاوضہ بہت اچھا دیا ہم کو آپ کو یہ فتح اور بالخصوص آپ کو مبارک ہو۔آپ کو بہت ہی خداوند کے سامنے جھک جانا چاہئے۔کیونکہ یہ خاص فضل اللہ تعالیٰ کا ہو اور نہ فریق مخالف کے مقابلہ میں ہماری کیا حقیقت تھی یہ محض اللہ تعالیٰ کے دست قدرت نے کام کیا ہے اور جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ اب زیادہ نازک وقت ہے پس ہم کو بہت سنبھلنا چاہئے اور خداوند تعالیٰ کا بہت بہت شکر ادا کرنا چاہئے۔کیونکہ خداوند تعالیٰ فرماتا ہے لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَا زِيْدَنَّكُمْ اگر تم قدر کرو تو میں تم کو اور بھی زیادہ دونگا۔۴۵۱ یہی انابت الی اللہ اور رجوع الی اللہ اور ہر لمحہ اس کی جناب میں جھک جانے اور اس سے استعانت کرنے کا نظارہ ہمیں ذیل کے مکتوب سے بھی نظر آتا ہے جو آپ نے مکرم میر بشارت احمد ایڈووکیٹ ( صحابی ) امیر جماعت احمدیہ حیدر آباد دکن کو ۱۴ دسمبر ۱۹۲۲ء کو مالیر کوٹلہ سے تحریر فرمایا: آپ لکھتے ہیں : " آپ کا خط متعلق علالت آپ کی والدہ صاحبہ پہنچا۔اس سے سخت تشویش اور درد پیدا ہوا۔میں برابر دعا کرتا ہوں۔میں نے آپ کے متعلقین کے ( لئے ) روزانہ دعا کو اپنا شعار مقرر کر لیا ہے اور نام بنام دعا کرتا ہوں۔آپ کی والدہ صاحبہ کی صحت کے لئے اور خصوصیت ( سے ) دعا کرنے لگا ہوں۔امید کہ آپ اپنی اور اپنی والدہ صاحبہ کے حالات صحت سے مطلع فرما کر مشکور فرمائیں گے۔آپ نے تحریر نہ فرمایا کہ اس دفعہ جلسہ پر کون کون صاحب تشریف لائیں گے۔میرے لئے آپ دعا فرما ئیں