اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 653 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 653

653 فی الحال میں کوئی تاریخ اپنے آنے کی عرض نہیں کر سکتا۔۔۔۔امراض روحانی کا علاج حضرت اقدس مسیح موعود مهدی معہود و امام آخر زمان علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔ایسے چشمہ روحانی سے طالبان حقیقت کا علیحدہ ہونا گویا کہ سکندر کا آب حیواں سے علیحدہ ہونا ہے یا ایک طالب کا مطلوب سے علیحدہ ہونا۔ہم لوگ جس شخص کا نتظار کر رہے تھے اور جس کے جھنڈے کے نیچے کھڑے ہونے کا ہم کو ارمان تھا وہ امام الوقت آگیا۔“ آپ کے دل میں روحانی اصلاح کی جو تڑپ تھی وہ آپ کی ڈائری سے پھوٹ پھوٹ کر ظاہر ہوتی ہے۔اس میں کسی قسم کا تصنع نہیں بلکہ حقیقت ہے۔آپ ۱۱ جنوری ۱۹۰۲ء کو ( مطابق ۳۰ رمضان المبارک) تحریر فرماتے ہیں: آج رمضان کا آخری روزہ ہے۔الحمد للہ کہ تمام روزے میرے پورے ہوئے۔خدا وند تعالیٰ میرے ان ناقص روزوں کو قبول فرمائے۔آج ایک۔۔۔افسوس مجھ کو ہوا کہ نماز عصر میری جاتی رہی۔اس سے قطعاذ ہول ہو گیا۔ذرا یادنہ رہا اور زیادہ اثر اور افسوس اس وقت ہوا جب حضرت اقدس نے تقریر فرمائی کہ ” جب دن ختم ہونے پر آیا تو میں کام چھوڑ کر دعا میں مشغول ہو گیا اور میں نے جن کے نام یاد تھے ان کے نام لے کر اور باقی کو بلا نام تمام کو دعا میں یاد کیا۔جب میں کر چکا تھا کہ مجھ کو معلوم ہوا جس طرح کوئی شخص مرجاتا ہے تو گویا میں نے سمجھا رمضان اب ختم ہو گیا۔اتنے میں اللہ اکبر کی آواز آئی لیکن ہم دعا کر چکے تھے۔ہماری دانست میں یہ بہت ہی مبارک مہینہ تھا۔گویا اسکی برکات ختم ہو گئیں“۔اس وقت مجھ کو بڑی رقت طاری ہوئی کہ ایک ہم بدنصیب ہیں کہ دعا تو دعا نماز عصر بھی غائب کی۔مجھ کو مغرب سے عشاء تا نہایت رقت تھی اس لئے اس تقریر کے وقت بھی رقت طاری تھی۔حضرت ( نے ) بڑی عمدہ تقریر فرمائی۔فرمایا ان مہینوں میں بھی روحانیت ہوتی ہے۔یہ روحانی ہوتے ہیں جن کے ذائقے جدا جدا ہیں۔نماز کا جدا۔روزے کا جدا۔حج کا جدا۔خلاصہ یہ ہے کہ جدا جدا ذا کھتے ہیں۔جو کمی اس ماہ میں رہ گئی ہے۔اس کی تلافی دوسرے مہینوں میں کی جائے۔آج صبح سیر میں عبدالحق صاحب نے