اصحاب احمد (جلد 2) — Page 536
536 ۱۴ نومبر ۱۹۰۱ء صبح نماز پڑھی گیارہ بجے بٹالہ پہنچے فور ارتھ میں سوار ہو کر قادیان کو روانہ ہوئے۔رتھ کے ہچکولے کھاتے گرد پھانکتے روانہ ہوئے قادیان پہنچے آرزو دارم که خاک آں قدم طوطائے چشم سازم دم بدم۔یہاں نماز ظہر اور عصر پڑھی۔اتنے میں حضرت اقدس تشریف لائے۔ایک بڑی عمدہ تقریر ( کی ) جس کا خلاصہ یہ تھا کہ انسان کو دنیا پر دین کو مقدم کرنا چاہئے۔متقی بننا چاہئے۔متقی کے معنی ہیں کہ اس پر بحیثیت امور دنیا ایک موت وارد ہوگئی ہو۔یعنی مکروہات دنیا سے بالکل بے تعلق ہوگیا ( ہو ) اور موت کے بعد جو زندگی ملتی ہے۔اس سے مستفید ہو۔پس ہماری جماعت کے لوگوں کو متقی بننا چاہئے اور یہاں اکثر آنا چاہئے تاکہ صحبت سے مستفید ہو کر ان کے انتقاء میں تکمیل ہو۔قریب مغرب حضرت اقدس تشریف لے گئے۔بوقت مغرب ہم نے جماعت کے ساتھ مسجد بیت الذکر میں نماز پڑھی۔پھر بعد نماز حضرت بیٹھے رہے اور تذکرے اور عسل مصفی سنتے رہے اور بہت عمدہ عمدہ تقریریں کیں اس کے بعد سب نے نماز عشاء پڑھی پھر حضرت اقدس تشریف لے گئے۔آپ کے قادیان اس ہفتہ وارد ہونے کا ذکر الحکم بابت ۰۱-۱۱-۷اصفحہ ۱۳ کالم ۳ میں مرقوم ہے۔یه عمده تقریر قارئین کرام کے فائدہ کے لئے الحکم ۰۱-۱۱-۷ اصفحہ ۱۴ سے نقل کی جاتی ہے۔” حضرت اقدس بعد از نماز مغرب حسب معمول بیٹھے تھے۔ایک شخص پیش ہوا جو دل سے مسلمان ہو چکا تھا مگر بعض وجوہات کے سبب سے بظاہر حالت کفر میں رہتا تھا۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا۔دنیا چند روزہ ہے۔شہادت کو چھپانا اچھا نہیں۔دیکھو بادشاہ کے پاس جب کوئی تحفہ لے کر جائے مثلا سیب ہی ہو اور سیب ایک طرف سے داغی ہو تو وہ اس تحفہ پر کیا حاصل کر سکے گا مخفی ہونے میں بہت سے حقوق تلف ہو جاتے ہیں۔مثلاً نماز با جماعت، بیمار کی عیادت، جنازہ کی نماز عیدین کی نماز وغیرہ سب حقوق مخفی رہ کر کیونکر ادا کئے جاسکتے ہیں مخفی رہنے میں ایمان کی کمزوری ہے۔انسان اپنے ظاہری فوائد کو دیکھتا ہے مگر وہ بڑی غلطی کرتا ہے۔کیا تم ڈرتے ہو کہ بچی شہادت کے ادا کرنے سے تمہاری روزی جاتی رہے گی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَفِی السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تَوْعَدُونَ ، فَوَ رَبِّ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ لَحَقِّ تمہارا رزق آسمان میں ہے۔ہمیں اپنی ذات کی قسم ہے یہ سچ ہے۔زمین پر خدا کے سوا کون ہے جو اس رزق کو بند کر سکے یا کھول سکے۔اور فرماتا ہے وھو يتولى الصالحین نیکوں کا وہ آپ والی بن جاتا ہے۔پس کون ہے جو مر دصالح کو ضرر دے سکے اور اگر کوئی مصیبت یا تکلیف انسان پر آپڑے۔من يتق الله يجعل له مخرجا جو خدا کے آگے تقویٰ اختیار کرتا ہے۔خدا اس کے لئے ہر ایک تنگی اور تکلیف سے نکلنے کی راہ بتا دیتا ہے۔اور فرمایا ويرزقه من حيث لا يحتسب و تقی کو ایسی راہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے رزق