اصحاب احمد (جلد 2) — Page 498
498 میں وارد ہے۔اور ضلع گجرات سے بغرض زیارت و استفاضہ برکات صحبت آیا لیکن ابھی تک مصافحہ کی سعادت سے بھی محرومی ہی ہو رہی ہے اس لئے کہ بعد نماز قریب کے معزز ا حباب اور مقتدرہستیاں فورا ہی حضور کے ارد گر د حلقہ کی صورت میں اس طرح سے بیٹھ جاتے ہیں کہ میرے جیسے غریب دیہاتی اور اجنبی کے لئے اس حلقہ سے گزر کر حضور اقدس سے مصافحہ کرنے کی جرات بھی بوجہ ادب نہیں ہوسکتی۔جب میرا یہ عریضہ جو خادمہ کے ذریعہ اندر پہنچایا گیا حضور اقدس کو پہنچا تو حضور اقدس نے اپنے قلم اور اپنی د تخطی تحریر کے ذریعے مجھے جواب عطا فرمایا جو نہایت ہی شفقت اور رحمت سے بھرئے ہوئے الفاظ سے لکھا ہوا میرے لئے باعث تسکین اور وجہ تسلی بنا۔جس میں ایک فقرہ مجھے اب تک یاد ہے کہ آپ اتنے دن ہوئے مل نہیں سکے۔حضور نے اپنے الفاظ میں ایک لفظ تساہل کا بھی لکھا تھا۔جس کا مطلب میری سمجھ میں یہی آیا کہ اگر آپ چاہتے تو آپ مل بھی سکتے تھے ملنے میں کون روک بن سکتا تھا۔بجز اس کے کہ آپ سے تساہل واقع ہوا۔چنانچہ جب چوتھے دن خاکسار کمر بستہ ہو کر حضرت اقدس کے الفاظ کے مطابق جرات کے ساتھ حضرت اقدس کے حلقہ احباب سے گزرتا ہوا حضور کی دست بوسی اور مصافحہ سے جا مشرف ہوا۔تو حضور نے بکمال شفقت و جذ بہ ترحم مجھے اپنے پاس بٹھا کر فرمایا کیوں جی آپ اتنے دنوں سے آئے ہوئے ہیں اور ملے نہیں۔میں نے عرض کیا کہ حضور ! چونکہ یہ معزز اور بزرگ ہستیاں جو اردگرد حلقہ نشین ہیں ان سے گزر کر حضور تک پہنچنا خلاف ادب محسوس کرتے ہوئے آگے ہونے کی جرات نہ ہو سکتی اور دور پیچھے ہی کھڑا رہتا اس وقت میرے الفاظ کے جواب میں نہایت ہی شفقت اور ترحم سے فرمایا کہ آپ خواہ کوئی بھی ہوں ان سے گزر کر آگے آکر میرے پاس بیٹھ جایا کریں۔یہ وہ الفاظ تھے جو اس محبوب خدا کے منہ سے اپنے حقیر سے خادم کے لئے ایسے طور سے میرے لئے باعث نوازش اور موجب فرحت و مسرت ہوئے کہ میری ساری ذہنی کوفت اور پریشانی کے احساس کو دور کرنے والے ہو گئے اور جو میرے لئے جری اللہ فی حلل الانبیاء حضرت مسیح العالمین اور مظہر حضرت خاتم النبین اور بروز محمد رحمة للعلمین کے یہ الفاظ تمام دنیوی سلطنتوں اور مملکتوں اور خزائن الارض کی قیمت سے بھی ہزار ہا درجہ بڑھ کر قیمت رکھنے والے تھے۔جب حضور اقدس نے یہ الفاظ مجھے مخاطب ہو کر فرمائے تو اس وقت حلقہ احباب میں بالکل قریب حضرت علامہ مولانا نورالدین صاحب، حضرت مولانا عبد الکریم صاحب اور حضرت نواب محمد علی صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب امر و ہی بیٹھے ہوئے تھے۔حضرت اقدس کے ان الفاظ کو سننے کے بعد یہ الفاظ مبارکہ میرے لئے اس قدر با برکت ہوئے کہ اس کے بعد یہ بزرگ ترین ہستیاں اور بعض دوسرے احباب جنہوں نے حضور اقدس کے یہ الفاظ میرے متعلق بطور نوازش کریمانہ اور بجذ بہ شفقت و ترحم